ملزمین کی تلاش کیلئے خصوصی ٹیمیں، خانگی ہاسپٹلس کی سرگرمیوں پر نظر
حیدرآباد ۔24۔جنوری (سیاست نیوز) حیدرآباد میں خانگی ہاسپٹل میں گزشتہ دنوں گردہ کے پیوند کاری سے متعلق غیر قانونی سرگرمیوں کا پتہ چلنے کے بعد حکومت نے گڈنی ریاکٹ کی جامع تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر صحت دامودر راج نرسمہا نے بتایا کہ گردہ کی غیر قانونی تبدیلی اور فروخت سے متعلق ریاکٹ کا پتہ چلانے کیلئے سی آئی ڈی کو تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ دامودر راج نرسمہا نے عہدیداروں کی کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد سی آئی ڈی کے ذریعہ تحقیقات کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خانگی ہاسپٹل جہاں یہ اسکام جاری تھا، اس کے علاوہ دیگر خانگی ہاسپٹلس کی سرگرمیوں کی جانچ کی جائے گی۔ سرورنگر میں واقع ایک خانگی ہاسپٹل کو اس واقعہ کے بعد مہربند کردیا گیا اور پولیس کی خصوصی ٹیمیں ملزمین کی تلاش کر رہی ہے۔ پولیس نے تاحال ہاسپٹل کے صدرنشین سمنت اور دیگر 8 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ سمنت اور گوپی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے گردہ کی فروخت کے ریاکٹ کے سلسلہ میں منگل کو اہم ملزم کو گرفتار کیا تھا، اس کے ذریعہ ریاکٹ میں ملزم افراد کے نام اور فون نمبرس حاصل کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹاملناڈو اور کرناٹک سے گردہ کے عطیہ دہندگان کو حیدرآباد منتقل کرتے ہوئے پیوند کاری کے آپریشن کئے جاتے ہیں۔ اسکام میں 15 تا 20 ڈاکٹرس کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گردہ کی خریدی کیلئے 30 تا 50 لاکھ روپئے کا معاہدہ کیا جاتا ہے۔ اس اسکام کے تار بعض بیرونی ممالک سے بھی جڑے ہوئے ہیں جن میں سری لنکا شامل ہے۔ دامودر راج نرسمہا نے کہا کہ تلنگانہ میں جاری اس اسکام کی مکمل جانچ کے بعد خاطیوں کو سخت سزا دلانے کی مساعی کی جائے گی ۔1