جملہ 19.80 لاکھ دستاویزات کا رجسٹریشن ۔ جاریہ سال 15,600 کروڑ روپئے کی آمدنی متوقع
حیدرآباد : /17 مئی (سیاست نیوز) محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن نے گزشتہ مالیاتی سال میں نیا ریکارڈ درج کیا ہے ۔ کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کی دشواریوں کے باوجود سال 2021-22 میں اراضیات کی لین دین میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ۔ جس کے نتیجہ میں ریاست کی تاریخ میں سب سے زیادہ 12,372.73 کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کی کاک رپورٹ میں محکمہ فینانس نے توثیق کی ہے ۔ جس میں 1509 کروڑ روپئے جاریہ سال مارچ میں ہی حاصل ہوئے ہیں ۔ زرعی اور غیر زرعی اراضیات کی لین دین کے ذریعہ 12,500 کروڑ روپئے کی حکومت کو آمدنی حاصل ہوئی ہے جو گزشتہ سال بجٹ میں لگائے گئے اندازہ کے 99 فیصد آمدنی حاصل ہوئی ہے ۔ ایک سال کے دوران زرعی اور غیر زرعی اراضی کے ساتھ جملہ 19.80 لاکھ دستاویزات کا رجسٹریشن ہوا ہے ۔ کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے آمدنی گھٹ کر 228 کروڑ روپئے تک محدود ہوگئی تھی ۔ تاہم جون سے دوبارہ آمدنی میں اضافہ ہوا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر حکومت کی پالیسیوں کے سبب ریاست میں رئیل اسٹیٹ کا شعبہ توقع سے زیادہ ترقی حاصل کرتے ہوئے ریکارڈ آمدنی حاصل کرچکا ہے ۔ رجسٹریشن آمدنی میں 468 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ سال 2014-15 ء میں اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن سے 2,175 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی اور 9 لاکھ دستاویزات کے رجسٹریشن ہوئے تھے ۔ سال 2021-22 میں تقریباً 20 لاکھ دستاویزات کے رجسٹریشن ہوئے ہیں ۔ سال 2020-21 کے بہ نسبت گزشتہ سال 136 فیصد زیادہ آمدنی حاصل ہوئی ہے ۔ کورونا کی پہلی لہر میں 3 ماہ کا لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے سال 2020-21ء میں صرف 5,260 کرو ڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی ۔ رواں مالیاتی سال 2022-23 ء کے دوران رجسٹریشن کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔ دیڑھ ماہ کے دوران 1.56 لاکھ غیر زرعی اراضیات کا لین دین ہوا ہے ۔ جس سے 1,431 کرو ڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ ماہرین رئیل اسٹیٹ کا ماننا ہے کہ دن بہ دن آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا ۔ آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے ورک فرم ہوم ختم کردیا گیا ہے جس سے کورونا کا ڈر و خوف ختم ہوگیا ہے ۔ دو سال سے دباؤ کا شکار رہنے والے تجارتی شعبہ کے دوگنا تیزی سے ترقی کرنے کے قوی امکانات ہیں جس سے امید کی جارہی ہے کہ سال 2022-23 میں محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کی آمدنی 15,600 کروڑ روپئے حاصل ہوگی ۔ ن