حکومت و عہدیداروں کی کارکردگی پر سوال ۔ طلبا میں گورنر کے تعلق سے مثبت رد عمل
حیدرآباد۔8۔اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست میں طلبہ کے مسائل حل کرنے گورنر ڈاکٹر ٹی سوندراراجن کی مہم ٹی آر ایس کیلئے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ گورنر نے طلبہ سے ملاقات کے دوران ایسے مسائل پر گفتگو شروع کردی جو کہ عرصہ دراز سے حل طلب ہیں اور ان کے حل کیلئے حکومت عملی اقدامات کی بجائے انہیں نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئیہے۔ گورنر سوندراراجن جو آزادی کا امرت مہوتسو منانے والے طلبہ کے درمیان پہنچ کر آزادی کی 75ویں سالگرہ کی تیاریوں میں مصروف ہیں وہ طلبہ کے مسائل سے آگہی حاصل کرکے ان کے حل کی تجاویز پیش کرنے لگی ہیں جو بالواسطہ طور پر حکومت کو مشورہ کے مترادف ہے لیکن حکومت کی جانب سے طلبہ کے مسائل پر توجہ نہ دیئے جانے کے ٹی آر ایس پر منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات پیدا ہونے لگے ہیں۔ سیاسی قائدین بالخصوص ٹی آر ایس قائدین کا کہناہے کہ گورنر جس انداز میں طلبہ کے مسائل سے آگہی حاصل کر رہی ہیں اور ان کے حل کی تجاویز پیش کرتے ہوئے ان کا یہ کہناہے کہ ان مسائل کو بہ آسانی حل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے بیانات حکومت کی کارکردگی پر سوال ہے ۔ گورنر اور چیف منسٹر کے مابین رسہ کشی کے دوران گورنر کی مختلف پروگرامس میں شرکت اور طلبہ سے مذاکرات اور ان کے مسائل سے آگہی حاصل کرنے کے اقدامات سے اب تلنگانہ راشٹر سمیتی کو تکلیف ہونے لگی ہے لیکن آزادی کے امرت مہوتسو پروگرام کیلئے وہ کسی طرح کی مخالفت کے موقف میں نہیں ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے طلبہ کے مسائل بالخصوص تعلیمی وظائف کی اجرائی ‘ فیس کی بازادائیگی میں تاخیر ‘ یونیورسٹی ہاسٹلس میں سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ دیگر امور کے متعلق طلبہ کی شکایات وصول کرکے ان پر گورنر کا ردعمل حکومت اور عہدیداروں کیلئے تکلیف دہ ثابت ہونے لگا ہے اور جو طلبہ گورنر سے ملاقات کر رہے ہیں وہ سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کر نے لگے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر گورنر کی پذیرائی کرکے طلبہ کی جانب سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے اور اس ردعمل کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن طلبہ کے بعد ملازمین بالخصوص اساتذہ کے مسائل سے آگہی کیلئے ان سے ملاقاتوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر کے پرجا دربار سے رجوع ہونے والوں سے راست رابطہ اور ان کے ہمراہ مذاکرات اور ان کے مسائل کے حل کے متعلق آگہی حاصل کرنے کی حکمت عملی کا بھی سیاسی حلقوں کی جانب سے جائزہ لیا جا رہا ہے ۔