ریاستی حکومت ، این جی او کو 7.5 کروڑ روپئے کے بلز ہنوز ادا شدنی
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : گورنمنٹ اسکولس میں طلبہ کو پہلے ہی معیاری مڈ ڈے میلس فراہم نہیں کیا جارہا ہے ۔ اب تو انہیں منا ٹرسٹ ( این جی او ) کی جانب سے انڈے بھی فراہم نہیں کئے جارہے ہیں ۔ کیوں کہ ریاستی حکومت نے اس این جی او کو فبروری سے تقریبا 7.5 کروڑ روپئے کے بلز ابھی تک ادا نہیں کئے ہیں ۔ اس لیے گورنمنٹ اسکولس کو دوپہر کا کھانا فراہم کرنے والے اس این جی او ، منا ٹرسٹ نے اسکولس کو انڈے فراہم کرنا روک دیا ہے ۔ گورنمنٹ اسکول ٹیچرس کے مطابق سرکاری اور حکومت کے امدادی اسکولس میں طلبہ کے لیے دوپہر کا کھانا منا ٹرسٹ کی جانب سے حکومت کے تعاون و اشتراک سے فراہم کیا جاتا ہے ۔ جولائی کے آخری ہفتہ سے انڈوں کی سربراہی روک دی گئی ہے کیوں کہ اس این جی او کا دعویٰ ہے کہ حکومت اسے ہنوز بلز ادا کرنا باقی ہے ۔ گورنمنٹ ہائی اسکول ، پرانا پل کے ہیڈ ماسٹر راما نندئیا نے کہا کہ آخری مرتبہ 26 جولائی کو انڈے فراہم کئے گئے تھے اس کے بعد انہوں نے انڈوں کی سربراہی روک دی ۔ انڈوں کے بجائے کوئی دوسری اضافی غذا بھی روانہ نہیں کی جارہی ہے ۔ بچوں کو انڈے فراہم کئے جانے چاہئے کیوں کہ یہ تغذیہ فراہم کرنے والی غذا ہے اور صحت مند رکھنے میں معاون ہے ۔ کووڈ 19 سے پہلے ہم کو پابندی سے انڈوں کی سربراہی کی جاتی تھی لیکن کووڈ کے بعد ہفتہ میں تین مرتبہ پیر ، چہارشنبہ اور ہفتہ کو ہی انڈے سربراہ کئے جارہے تھے لیکن اب وہ مڈ ڈے میلس میں شامل نہیں کئے جارہے ہیں ۔ ہم نے اس سلسلہ میں ریاستی حکومت سے کئی مرتبہ نمائندگی کی لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ گورنمنٹ ہائی اسکول ، کاچی گوڑہ کے ایک ٹیچر نے کہا کہ طلبہ کو انڈوں کی سربراہی نہ کرنا ان کی صحت کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہوگا کیوں کہ وہ پہلے ہی معیاری غذا سے محروم ہیں ۔ کئی مرتبہ نمائندگی کرنے کے بعد بھی حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی ۔ اس دوران منا ٹرسٹ ( این جی او ) کے ایک ممبر نے کہا کہ بلز کی عدم ادائیگی کے باعث ہم نے دوپہر کے کھانے میں انڈوں کو شامل کرنا روک دیا ہے ۔ فروری سے تقریبا 7.5 کروڑ روپئے کے بلز زیر التواء ہیں ۔ ہم نے ریاستی حکومت کو کئی خطوط روانہ کر کے بلز کی ادائیگی پر زور دیا لیکن ہنوز حکومت سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔۔