حیدرآباد : تاریخی گولکنڈہ کو حالیہ بارش سے نقصان ہوا تھا اور محکمہ آثار قدیمہ نے تعمیر و مرمت کا فیصلہ کیا ہے۔ قلعہ کے جس حصہ کو بارش سے نقصان ہوا اُسکا معائنہ کرنے حکام کی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے گولکنڈہ کا دورہ کرکے حقیقی صورتحال کا جائزہ لیا۔ مجنوں برج اور نیا قلعہ کے علاوہ رانی محل اور خلوت علاقوں میں مرمتی کام آئندہ 4 تا 6 ماہ جاری رہیں گے۔ 500 سالہ قدیم قلعہ کو موسلا دھار بارش کے نتیجہ میں نقصان پہنچا تاہم ماہرین کے مطابق نقصانات قابل مرمت ہیں۔ قلعہ کی ایک دیوار جزوی منہدم ہوگئی تھی۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے مرمتی کاموں کے سلسلہ میں ٹنڈر طلب کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن حصوں کو نقصان پہنچا وہ آبادی سے متصل ہیں لہذا مرمتی کاموں کو انتہائی احتیاط کے ساتھ انجام دینا ہوگا۔ قلعہ سے متصل آبادیوں کو کسی بھی نقصان سے بچانے آثار قدیمہ نے خصوصی منصوبہ بندی کرلی ہے۔