نئی دہلی : ہندوستان اپنی آزادی کی 75ویں جشن آزادی ڈائمنڈ جوبلی منا رہا ہے او رملک سے چھوت چھات اور بھید بھاؤ کا خاتمہ نہیں ہو پا یا ہے ‘ ملک کی گئی ریاستو ں میں بھید بھاؤ اور چھوت چھات کے واقعات کہیں نہ کہیں رونما ہوتے ہیں ایسے میں ایک افسوسناک خبر راجستھان کی ریاست کے جلور ضلع سے آرہی ہے جو پورے ملک میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور ہر طرف اسی کا چرچا ہو رہا ہے۔دراصل ایک دلت بچے کے گھڑے سے پانی پینے کے بعد غصہ میں ٹیچر نے اسے اتنا مارا کہ اس کے کان کی رگیں پھٹ گئیں۔ اس کے بعد بچے کو علاج کے لیے احمد آباد کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اس کی موت ہوگئی۔ پولیس نے تشدد کرنے والے ٹیچر کو گرفتار کر لیا۔ یہاں راجستھان حکومت نے مرنے والے بچے کے خاندان کو 5 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔