گیانیش کمار کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے ‘ کھرگے

,

   

چیف الیکشن کمشنر کے ’ عوامی مواخذہ ‘ کا اہتمام ۔مودی اور امیت شاہ کی ہدایات پر کام کرنے کا الزام۔ سابق اسپیکر لوک سبھامیرا کمار نے صدارت کی

نئی دہلی 31 اکٹوبر ( ایجنسیز ) کانگریس زیر قیادت انڈیا اتحاد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے عوامی مواخذہ کا اہتمام کیا اور اپنے اس الزام کا اعادہ کیا کہ مرکز کی بی جے پی زیر قیادت حکومت غیرمنطقی ہے کیونکہ حالیہ انتخابات کا سرقہ کرلیا گیا تھا ۔ اس کارروائی کی صدارت سابق اسپیکر لوک سبھا شریمتی میرا کمار نے کی جبکہ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے عوامی مواخذہ کی تحریک پیش کی ۔ جس طرح سے پارلیمنٹ کی کارروائی چلتی ہے اسی طرح سے عوامی مواخذہ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ گیانیش کمار کو صرف استعفی ہی نہیں پیش کرنا چاہئے بلکہ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ بھی فوری طورپر چلایا جانا چاہئے ۔ لان میں کئے گئے نشستوں کے اہتمام کے مطابق میرا کمار کی نشست ایک اسٹیج پر نصب کی گئی تھی جس کے پس منظر میں پارلیمنٹ عمارت کے سنٹرل ہال کا ماڈل رکھا گیا تھا جس طرح لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مشترکہ اجلاس منعقد ہوا کرتے ہیں۔ اس تمثیلی اجلاس میں کچھ چیف منسٹرس بھی موجود تھے ۔ واضح رہے کہ عوامی مواخذہ کی یہ کارروائی دہلی کے رام لیلا میدان پر کل ہونے والی بڑی ریلی سے ایک دن قبل کی گئی ہے ۔ آج کی کارروائی اور کل کی ریلی اپوزیشن انڈیا اتحاد کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ملک گیر مہم کا ایک حصہ ہے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی اور دوسرے گروپس نے بھی کل انڈیا اتحاد کی جانب سے منعقد کی جانے والی ریلی کی تائید و حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ صرف عام آدمی پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اتحاد کے ساتھ نہیں ہے ۔ آج عوامی مواخذہ کی کارروائی کو قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے اپنے سوشیل میڈیا اکاؤنٹس پر راست نشر بھی کیا ۔ اس کارروائی کی صدارت کرتے ہوئے میرا کمار نے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ کس طرح سے غیرمناسب انداز میں عوام کے ووٹ حذف کئے گئے ہیں۔ جب کبھی سوال پوچھے جاتے ہیں تو جواب میں کوئی شفافیت نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مواخذہ کی تحریک پیش کی گئی ہے تاکہ گیانیش کمار کو ان کے عہدہ سے بیدخل کیا جاسکے ۔ اس طرح میرا کمار نے افتتاحی ریمارکس کئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تشویش کی بات ہے کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے باوجود ایسے بے قاعدگیاں ہو رہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جمہوریت کو ایشیاء ‘ افریقہ ‘ جنوبی امریکہ کی اقوام مثالی جمہوریت کے طور پر دیکھتی ہیں۔ انہوں نے کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہوگئے ہیں انہیں آج اظہار خیال کا موقع ہے ۔ انڈیا بلاک کے ارکان ‘ راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں ایوانوں کے ارکان اور سیول سوسائیٹی کے نمائندے اور عام شہری جن کے نام حذف کردئے گئے ہیں وہ اب اپنی رائے ظاہر کریں گے ۔ اس وقت کھرگے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے علامتی تحریک پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کا حق جمہوریت میں سب سے بنیادی ہے اور آج اسے سنگین خطرہ لاحق ہے ۔ یہ جمہوریت کو بچانے کی لڑائی ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی راست ہدایات پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اقتدار پر بنے رہنے کیلئے برسر اقتدار گروپ ہر ممکن سازش کر رہا ہے ۔ ارکان پارلیمنٹ کی چوری کی گئی ‘ سیاسی جماعتوں کو توڑا گیا ‘ منتخبہ حکومتوں کو گرایا گیا اور ان کا سرقہ کیا گیا ‘ الیکٹورل بانڈز کی اسکیم لائی گئی اور ای ڈی اور سی بی آئی جیسی ایجنسیوں کا استعمال کیا گیا اور اب ووٹ چوری کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد کے ارکان جو ہندوستان کے آبادی کے 60 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں وہ دہلی میں جمع ہوئے ہیں اور ووٹ کے حق کو بچانا چاتے ہیں جسے دستور میں فراہم کیا گیا ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے اقدامات سے اس حق کو سنگین خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کا مواخذہ چھ الزامات پر ہونا چاہئے ۔ انہوں نے انتخابات کا سرقہ کرنے کی سازش کی ‘ 13.2 کروڑ ووٹ چوری کئے ‘ فارم 6 میں تبدیلی کی اور پارلیمنٹ کی منظوری نہیں لی ‘ ای سی آئی نیٹ کے ذریعہ ووٹر لسٹ کو ضبط کرلیا ‘ دوسرے کمشنران کو خاموش بٹھادیا اور نریندر مودی و امیت شاہ کی ایماء پر کام کیا ۔ دوسری پارٹیوں کے قائدین اور جن افراد کے نام حذف کئے گئے ہیں انہوں نے بھی اظہار خیال کیا ۔ اظہار خیال کرنے والوں میں طلباء لیڈر نیہا بورا بھی شامل تھیں۔