لکھنؤ: اترپردیش کے ایک ہاسپٹل میں خاتون کے نماز پڑھنے کے عمل کو غلط رنگ دینے کی کوشش کو پولیس نے ناکام بنادی۔ میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ایک سرکاری ہاسپٹل کے وارڈ کے باہر مریض کی تیماردار خاتون کی نماز پڑھنے کی ویڈیو واٹس ایپ گروپس اور دیگر شوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی تھی۔ویڈیو کے ساتھ سوشل میڈیا پر لکھا گیا کہ عوامی مقامات پر نماز پڑھنا غیر قانونی ہے جس کے بعد اکثر لوگوں نے سوشل میڈیا پر سوال پوچھا کہ ’ اپنے پیاروں کی صحت یابی کے لیے اگر کوئی دعا کرے تو اس میں کیا حرج ہے‘۔میڈیا کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ٹوئٹ میں کہا کہ تحقیقات کے بعد پتہ چلا ہے کہ خاتون مریض کی جلد صحت یابی کے لئے نماز پڑھ رہی تھی۔پولیس نے مزید کہا کہ خاتون کا نماز پڑھنا کسی طور پر جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔ مقدمہ درج کرنے کی غلط خبریں پھیلائی گئیں۔ پریاگ راج پولیس نے ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ شہر کے تیج بہادر سپرو چکستالیا کے احاطہ میں خاتون کے نماز پڑھنے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔