اسمبلی چناؤ … بنگال قلعہ پر سب کی نظریں
اگزٹ پولس … کہیں امید کہیں مایوسی
رشیدالدین
اگزٹ پول کتنے سچ کتنے جھوٹ۔ اس بات کا فیصلہ 4 مئی کو ہوجائے گا جب چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقہ کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین عوام کے فیصلہ کو پیش کریں گے ۔ مغربی بنگال میں دوسرے مرحلہ کی رائے دہی کے اختتام کے ساتھ ہی اگزٹ پولس کا ایک سیلاب امنڈ پڑا۔ گودی میڈیا ، اخبارات ، آزاد صحافتی ادارے اور یو ٹیوب چیانلس کی جانب سے جیت اور ہار کے بارے میں اپنے اپنے اندازے عوام تک پہنچانے لگے۔ گودی میڈیا نے وفاداری کے اظہار اور حق نمک ادا کرنے میں پوری دیانتداری کا مظاہرہ کیا ۔ مغربی بنگال ، آسام اور پڈوچیری میں بی جے پی کو اقتدار کا دعویٰ کیا گیا جبکہ ٹاملناڈو میں معلق اسمبلی اور کیرالا میں کانگریس زیر قیادت یو ڈی ایف کو اقتدار کی پیش قیاسی کی گئی ۔غیر جانبدار اور آزادانہ اداروں کا اگزٹ پول مختلف ہے۔ بنگال میں ممتا بنرجی ، ٹاملناڈو میں ایم کے اسٹالن ، آسام میں ہیمنت بسوا سرما اور کیرالا میں کانگریس کی کامیابی کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ اگرچہ چناؤ پانچ ریاستی اسمبلیوں کا ہوا لیکن سارے ملک بلکہ دنیا کی نظریں مغربی بنگال پر ہیں جہاں کا نتیجہ ملک کی مستقبل کی سیاست کو طئے کرے گا۔ ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کی راہ میں ممتا بنرجی اہم رکاوٹ ہیں لیکن بنگال کے قلعہ کو ڈھانے کے لئے بی جے پی نے ساری طاقت جھونک دی ، لہذا بنگال کا فیصلہ مودی ۔ امیت شاہ کے سیاسی مستقبل کو بھی طئے کرے گا۔ زیادہ تر غیر جانبدار سروے ممتا بنرجی کی واپسی کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ آسام میں ہیمنت بسوا سرما کی واپسی ، کیرالا میں کانگریس اور ٹاملناڈو میں اسٹالن کی برقراری کی پیش قیاسی کی گئی۔ اس مرتبہ ٹاملناڈو میں فلمسٹار وجئے کی پارٹی بادشاہ گر کے موقف میں آسکتی ہے ۔ ایسے میں بعض اداروں نے ٹاملناڈو میں معلق اسمبلی کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بنگال میں بی جے پی کی جانب سے ا لیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی کا مقابلہ کیا۔ ڈھائی لاکھ سے زائد نیم فوجی جوان اور 90 سے زائد پولیس آبزرور تعینات کرتے ہوئے رائے دہندوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا گیا ۔ مودی۔امیت شاہ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بنگال کی قلعہ فتح کرنے کی ذمہ داری دی ہے اور گیانیش کمار عہدیدار سے زیادہ بی جے پی الیکشن ایجنٹ کے رول میں دکھائی دیئے ۔ عوام کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں محفوظ ہوچکا ہے اور آئندہ 24 گھنٹے میں یہ طئے ہوجائے گا کہ کامیابی کا تاج کس کے سر پر سجایا جائے۔ اگزٹ پولس کی قیاس آرائیوں پر ہر پارٹی اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہی ہے۔ اگزٹ پول نتائج کے ساتھ ہی سیاسی پا رٹیوں اور امیدواروں میں کہیں خوشی کہیں غم ، کہیں امید اور کہیں مایوسی کا ماحول دیکھا گیا ۔ کامیابی سے متعلق قیاس آرائیوں کے باوجود قائدین اور امیدواروں کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوچکی ہیں۔ اس کی اہم وجہ اگزٹ پولس کا حالیہ برسوں میں غلط ثابت ہونا ہے ۔ رائے دہندوں کا فیصلہ اور رجحان کی بنیاد پر اگزٹ پول کا تعین کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں بی جے پی نے میڈیا اداروں کو خرید کر ا گزٹ پولس کو مشتبہ بنادیا اور عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب اگزٹ پول کو اگزاکٹ پول کا درجہ حاصل تھا۔ رائے دہندوں کے رجحان کی درست عکاسی کی جاتی تھی کہ لیکن مودی حکومت نے میڈیا گھرانوں کے مالکین کو خریدلیا جس کے نتیجہ میں ٹی وی اینکرس کی آواز اور صحافی کا قلم بی جے پی کے پاس گروی رکھ دیا گیا۔ بنگال کے پہلے مرحلہ میں 93 فیصد رائے دہی اور دوسرے مرحلہ میں 92 فیصد رائے دہی نے آزادی کے بعد تمام ریکارڈس توڑ دیئے ہیں۔ ایس آئی آر کے نام پر لاکھوں نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنے کے باوجود رائے دہندوں کا جوش و خروش آخر کس کے حق میں تھا ۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ عوام نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیا جبکہ ترنمول کانگریس اسے ایس آئی آر کے خلاف عوامی ناراضگی قرار دے رہی ہے۔ چناؤ ممتا اور جنتا کے درمیان تھا یا پھر ترنمول کانگریس بمقابلہ الیکشن کمیشن رہا، اس بات کا فیصلہ 4 مئی کو ہوجائے گا ۔ زیادہ تر رائے دہندوں نے اگزٹ پولس میں مصروف صحافیوں کے سوالات کے جواب نہیں دیئے ۔ ماہرین کے مطابق پہلی مرتبہ مغربی بنگال میں 70 تا 80 فیصد رائے دہندوں نے اپنی پسند کے بارے میں خاموشی احتیار کرلی اور یہی وجہ ہے کہ بعض اہم میڈیا گھرانوں نے مغربی بنگال کا اگزٹ پول جاری نہیں کیا۔ رائے دہی کے موقع پر پولنگ اسٹیشنوں میس ووٹرس سے زیادہ نیم فوجی جوان دکھائی دے رہے تھے ۔ رائے دہی کے بعد کولکتہ کے بعض اسٹرانگ رومس میں الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کی پراسرار سرگرمیوں کو سی سی ٹی وی کیمرے نے قید کرلیا اور ممتا بنرجی کو رات دیر گئے تک دھرنے پر مجبور ہونا پڑا لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ رات کی تاریکی میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ساتھ کیا کیا جارہا تھا۔ دوسرے مرحلہ میں 84 پولیس آبزرورس کے علاوہ مزید 11 آبزرور دوسری ریاستوں سے طلب کئے گئے۔ یوگی ادتیہ ناتھ کے نور نظر پولیس عہدیدار اجئے پال شرما نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ترنمول امیدواروں کو کھلے عام دھمکیاں دیں۔ اڈیشہ کے پولیس عہدیدار پرشوتم داس اور گنگا دھر نے بی جے پی کے اشارہ پر کام کیا اور ان تینوں کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ انتخابات میں رائے دہندے اپنے نمائندہ کا انتخاب کرتے ہیں لیکن بنگال میں نیم فوجی دستوں کے ذریعہ عوام کو بی جے پی کے حق میں رائے دہی کے لئے مجبور کیا گیا۔ مغربی بنگال پر مرکزی حکومت اور بی جے پی نے اپنی ساری طاقت جھونک دی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بنگال میں کیمپ لگادیا تھا۔ امیت شاہ ، بی جے پی چیف منسٹرس، مرکزی وزراء اور پھر رہی سہی کسر اجئے پال شرما جیسے عہدیداروں نے پوری کردی۔ اطلاعات کے مطابق کئی ہزار کروڑ روپئے پانی کی طرح بہائے گئے۔ ایک خاتون کو ہرانے کیلئے دہلی کو بنگال منتقل کردیا گیا۔ بی جے پی خواتین تحفظات کے نام پر خواتین سے ہمدردی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن بنگال میں ایک خاتون بطور چیف منسٹر برداشت نہیں۔ گزشتہ 12 برسوں میں بی جے پی کو کئی ریاستوں میں کامیابی ضرور ملی لیکن بنگال پر قبضے کا خواب پورا نہیں ہوا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر بی جے پی بنگال کے قلعہ کو فتح کرتی ہے تو ملک میں اپوزیشن کو بھاری نقصان ہوگا۔
مغربی بنگال کے اگزٹ پول پر خود سیاسی پارٹیوں کو بھروسہ کم دکھائی دے رہا ہے ۔ 2021 میں کئی اگزٹ پولس بی جے پی کے حق میں تھے لیکن ممتا بنرجی کو اقتدار حاصل ہوا تھا ۔ ٹھیک اسی طرح اس مرتبہ بھی کئی گودی میڈیا چیانلس نے بی جے پی کو اقتدار کا خواب دکھایا ہے۔ یہ وہی چیانلس ہیں جنہوں نے 2021 میں بی جے پی کو 120 سے 190 نشستوں کی پیش قیاسی کرتے ہوئے مودی اور امیت شاہ کو خوش کردیا تھا لیکن نتائج مختلف رہے۔ ممتا بنرجی کو 140 نشستیں دکھائی گئی تھی لیکن انہیں حقیقت میں 215 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ دوسری طرف بی جے پی کو اقتدار حاصل نہیں ہوا اور وہ 77 نشستوں تک محدود ہوگئی۔ سیاسی مبصرین آسام میں ہیمنت بسوا سرما کی واپسی کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ الیکشن سے عین قبل آسام میں 40 لاکھ خواتین کے بینک اکاؤنٹس میں فی کس 9000 روپئے جمع کئے گئے جس کے نتیجہ میں بی جے پی کو فائدہ کا امکان ہے۔ بہار کی طرح آسام میں بھی بی جے پی نے ووٹ چوری کے ساتھ ووٹ خریدی کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آسام میں کانگریس کے داخلی اختلافات کے نتیجہ میں پارٹی کو نقصان ہوا۔ کیرالا میں کانگریس کے اقتدار کے نتیجہ میں راہول اور پرینکا گاندھی کی شخصی کامیابی تصور کی جائے گی کیونکہ ان دونوں نے انتخابی مہم پر خصوصی توجہ دی تھی۔ انتخابات کے دوران اچانک عام آدمی پارٹی میں پھوٹ پیدا کی گئی اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7 راجیہ سبھا ارکان بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔ کسی نے درست کہا ہے کہ ملک میں دل بدل نہیں بلکہ دھڑ پکڑ کی سیاست چل رہی ہے ۔ مخالفین اور اپوزیشن قائدین کو سی بی آئی ، انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سے دھمکا کر بی جے پی میں شامل کیا جارہا ہے ۔ مہاراشٹرا ، آسام اور دیگر ریاستوں کے بعد عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ارکان کو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کا خوف دلاکر بی جے پی میں شامل کرلیا گیا۔ راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے 10 ارکان تھے جن میں سے 7 نے انحراف کرلیا اور صدرنشین راجیہ سبھا نے فوری منظوری دے دی۔ منحرف ارکان کے فیصلہ سے عوام سخت ناراض ہیں جس کا اظہار سوشیل میڈیا میں عوام کی رائے سے ہوتا ہے۔ موجودہ سیاست پر کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
ہر اک موسم میں کچھ چہرے بدلتے ہیں
سیاسی کھیل بھی کتنا عجب ہے