لڑیں گے یا مریں گے ‘ ممتابنرجی کا اعلان

   

مابعد انتخابات تشدد پر کولکاتہ میں دھرنے سے خطاب
کولکاتہ 2 جون ( ایجنسیز ) اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد اپنے اسٹریٹ فائٹر اوتار میں واپسی کرتے ہوئے ترنمول کانگریس سربراہ ممتابنرجی نے اعلان کیا کہ وہ لڑیں گی یا مریں گی ۔ انہوں نے بی جے پی پر ترنمول قائدین پر حملوں کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پارٹی قائدین کو دھمکایا جا رہا ہے ۔ انتخابات کے بعد تشدد کے واقعات پر ممتابنرجی نے وسطی کولکاتہ میں ایک زبردست دھرنا منظم کیا ۔ اس دھرنا میں پارٹی کے آٹھ ارکان اسمبلی نے شرکت کی حالانکہ پارٹی کے جملہ 80 ارکان اسمبلی ہیں۔ دھرنے میں چھ ارکان پارلیمنٹ بھی موجود تھے ۔ ممتابنرجی نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ انتخابات میں ووٹوں کی لوٹ مچانے کے بعد ترنمول کانگریس میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ممتابنرجی نے کہا کہ ہم لڑیں گے یا مریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام مخالفین ( بی جے پی ) کو اقتدار سے بیدخل کرنے تک مریں گی نہیں ۔

انتخابی شکست کے بعد ترنمول کو سنگین داخلی بحران کا سامنا
جعلی دستخط کے تنازعہ نے شدت اختیار کرلی ۔ الزامات کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا

کولکاتا۔ 2 جون ( ایجنسیز ) مغربی بنگال میں اقتدار سے محرومی کے بعد ترنمول کانگریس اس وقت اپنے بڑے داخلی بحران سے دوچار ہے۔ انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی میںایک سنگین تنازعہ نے جنم لیا ہے جسے ’دستخطی جعلسازی تنازعہ‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ اسمبلی میں جمع کرائے گئے بعض سرکاری دستاویزات میں متعدد اراکینِ اسمبلی کے دستخط جعلی یا ان کی رضامندی کے بغیر استعمال کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد مجرمانہ تحقیقاتی محکمہ نے باضابطہ جانچ شروع کر دی ۔ یہ تنازعہ اسمبلی میں قائدِ اپوزیشن اور پارٹی چیف وہپ کے تقرر کیلئے داخل دستاویزات سے متعلق ہے۔ الزام ہے کہ ان کاغذات پر کئی دستخط متعلقہ اراکینِ اسمبلی کے نہیں ہیں یا پھر ان کی اجازت کے بغیر درج کیے گئے ۔ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب پارٹی کے دو اراکینِ اسمبلی رتبرتا بنرجی اور سندیپن ساہا نے قائدِ اپوزیشن عہدے کیلئے سینئر لیڈر شوبھندیب چٹوپادھیائے کی حمایت میں پیش خط میں موجود دستخطوں پر سوالات اٹھائے۔ دونوں اراکین نے اس میں باضابطہ شکایت بھی درج کرائی۔ شکایت کے بعد اسمبلی سکریٹری سے مقدمہ درج کرایا گیا، جس کے بعد مجرمانہ تحقیقاتی محکمہ نے جانچ کا آغاز کیا۔ تفتیشی افسران متعلقہ اراکینِ اسمبلی کے بیانات قلم بند کر رہے ہیں اور دستخطوں کے نمونے جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔ متعدد اراکین کے بیانات پہلے ہی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ اس تنازعہ نے پارٹی میںموجود اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کو مضبوط قیادت والی جماعت سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ واقعات نے اندرونی گروپ بندی کو کھل کر سامنے لا دیا ہے۔ دستخطوں کے معاملے پر سوالات کے فوراً بعد پارٹی قیادت نے رتبرتا بنرجی اور سندیپن ساہا کو جماعت مخالف سرگرمیوں کا مرتکب قرار دے کر پارٹی سے خارج کر دیا۔ اس کارروائی نے تنازعہ کو مزید شدت دی ہے۔ تحقیقات کا دائرہ اب اعلیٰ قیادت تک پہنچ چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کو بھی جانچ کیلئے طلب کیا گیا ۔ دوسری جانب پارٹی اجلاسوں میں اراکین کی غیر حاضری اور رہنماؤں کے درمیان کھلے اختلافات نے تنظیمی نظم و ضبط اور قیادت کی گرفت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ترنمول کانگریس کو ممتا بنرجی سے ہائی جیک کر لیا گیا : رتبرت بنرجی
کولکاتہ، 2 جون (یو این آئی) ترنمول کانگریس سے معطل رکنِ اسمبلی رتبرت بنرجی نے پارٹی میںبڑھتے اختلافات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ترنمول کانگریس کو ممتا بنرجی کے ہاتھوں سے ہائی جیک کر لیا گیا ہے ۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس میںداخلی اختلافات اور تقسیم کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رتبرت بنرجی نے پارٹی کی موجودہ قیادت اور انتظامی انداز پر تنقید کی، تاہم ساتھ ہی ممتا بنرجی کیلئے اپنے احترام کا اظہار بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی ایک عظیم رہنما ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا ، ان کیلئے میرے احترام میں کوئی کمی نہیں آئی۔ آج بھی وہ میری رہنما ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ترنمول کانگریس کو ممتا بنرجی سے ہائی جیک کر لیا گیا ہے ۔

ترنمول کانگریس میں پھوٹ کی قیاس آرائیوں میں شدت

سابق وزیراعلیٰ ممتابنرجی کی جانب سے طلب کی گئی میٹنگوں میں ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد غیر حاضر

کولکاتہ، 2 جون (یواین آئی) مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) ان دنوں سنگین سیاسی بحران اور اندرونی اختلافات کا سامنا کر رہی ہے ، جس کے باعث پارٹی میں پھوٹ پڑنے کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔قابلِ ذکر ہے کہ یہ ہلچل گزشتہ دنوں ایک جعلی دستخط کے تنازع، پارٹی مخالف سرگرمیوں اور محترمہ ممتا بنرجی کی جانب سے طلب کی گئی میٹنگوں میں ارکانِ اسمبلی کی بڑی تعداد میں غیر حاضری کے بعد شروع ہوئی ہے ۔پیر کے روز سیاسی غیر یقینی صورتحال اس وقت مزید گہری ہو گئی جب ٹی ایم سی سے نکالے گئے ارکانِ اسمبلی رتبرت بندیوپادھیائے اور سندیپان ساہا اور پارٹی کے کئی موجودہ ارکانِ اسمبلی کے درمیان نئی ملاقاتوں کی خبریں سامنے آئیں۔ ان ملاقاتوں نے محترمہ ممتا بنرجی اور مسٹر ابھشیک بنرجی کی قیادت کے خلاف بڑے پیمانے پر بغاوت کے امکان سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔سیاسی ذرائع کے مطابق پیر کی شام کولکاتا کے ایم ایل اے ہاسٹل میں ایک میٹنگ ہوئی، جس میں مسٹر رتبرت بندیوپادھیائے اورسندیپان ساہا کے ساتھ ٹی ایم سی کے کئی ارکانِ اسمبلی شریک ہوئے ۔ واضح رہے کہ مسٹر رتبرت اور مسٹرسندیپان کو حال ہی میں ‘جعلی دستخط تنازع’ کے سبب پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ میٹنگ میں شامل افراد میں مالدہ اور مرشد آباد اضلاع کے ارکانِ اسمبلی کے علاوہ محترمہ سیولی ساہا بھی شامل تھیں۔ ٹی ایم سی کے ذرائع نے دعویٰ ہے کہ اس گفتگو میں تقریباً 15 سے 16 ارکانِ اسمبلی نے حصہ لیا۔ ایم ایل اے ہاسٹل سے نکلتے وقت محترمہ سیولی ساہا کے ایک بیان نے ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ کسی سیاسی میٹنگ میں شریک ہوئی تھیں اور کہا کہ وہ ہاسٹل میں اپنے کمرے کا معائنہ کرنے گئی تھیں، جہاں ان کی ملاقات رتبرت بندیوپادھیائے اور سندیپان ساہا سے ہو گئی۔ ان کا یہ کہنا کہ حالانکہ ‘انہیں رکنِ اسمبلی کے عہدے سے نہیں بلکہ صرف پارٹی سے نکالا گیا ہے ‘،کئی لوگوں کے ذریعہ ایک اہم سیاسی اشارہ کے طورپر سمجھا گیا۔ اس پیش رفت نے ان قیاس آرائیوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ باغی ارکانِ اسمبلی اب پارٹی قیادت کو باضابطہ طور پر چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ باغی ارکانِ اسمبلی کا ایک گروپ منگل کے روز ہی مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر کو ایک خط پیش کر سکتا ہے ، جس میں وہ خود کو ‘اصلی ترنمول کانگریس’ کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کریں گے ۔
اس مجوزہ اقدام کا مقصد مسٹر رتبرت بندیوپادھیائے کی قیادت میں ایک الگ قانون ساز گروپ کے طور پر منظوری حاصل کرنا ہے ۔