ہر دل میں ترنگا کا احترام، حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے گھر گھر ترنگا مہم

   

جماعت اسلامی ہند کا ردِ عمل، کامن سیول کوڈ کے بجائے کامن اِنکم کوڈ اور کامن ہاؤزنگ کوڈ کی ضرورت

حیدرآباد۔/7 اگسٹ، ( سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے 2014 سے اب تک 9 لاکھ سے زائد افراد کے ہندوستانی شہریت چھوڑ دینے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دوسرے ممالک کی شہریت حاصل کرنے والے ہندوستانیوں کی بڑھتی تعداد دراصل اپنے بچوں کے مستقبل اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے بارے میں فکر مند ہیں اور موجودہ سسٹم پر انہیں بھروسہ نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ ان کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ پیشہ ورانہ اور کاروباری افراد اپنے ملک واپس ہوسکیں۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے پریس کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری ادارے اور ایجنسیاں عوامی فلاح و بہبود اور عدل و انصاف کی فراہمی کے پابند ہوتے ہیں ان کا سیاسی مفادات کیلئے بیجا استعمال دراصل جمہوری اقدار کو پامال کرنا ہے۔ پارلیمنٹ میں مباحث کے بغیر جلد بازی میں قوانین کی منظوری پر نکتہ چینی کرتے ہوئے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ تنقید کی آوازوں کو دبانا، اہم مسائل پر مباحث سے گریز جمہوری تقاضوں کے خلاف ہے۔ سرکاری مشنری کا استعمال مخالفین کے بجائے عوام کے مفاد میں ہونا چاہیئے۔ ملک میں بڑھتی مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافہ اور جی ایس ٹی میں حالیہ تبدیلی نے غریب اور متوسط طبقات کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے والے قوانین کے بجائے عوام دوست قوانین تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ قومی دیہی ضمانت روزگار اسکیم کے تحت 13 ریاستوں میں 4720 کروڑ کی ادائیگی باقی ہے۔ نائب امیر جناب ایس امین الحسن نے کہا کہ ہر گھر میں ترنگا لہرانے کی تجویز دراصل عوامی اور اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا عوام کے دلوں میں ہے اور ہر کوئی اس کا احترام کرتا ہے۔ ہر شخص ترنگا کی اہمیت سے واقف ہے اور اسے لہراتے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تشہیری پروگراموں کے بجائے مہنگائی پر قابو پانے اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیئے۔ ر