چیف منسٹر تلنگانہ غیرکانگریسی اتحاد کے خواہاں ، اپوزیشن عظیم اتحاد میں کانگریس کو شامل کرنے پر مصر
حیدرآباد۔26 ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ قومی سطح پر اہم سیاسی کردار ادا کرنے بے چین ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ملک گیر سطح پر غیربی جے پی اور غیرکانگریسی اپوزیشن اتحاد تشکیل پائے اور مرکز میں اس اتحاد کی حکومت بنے۔ اسی مقصد کے تحت وہ مختلف اپوزیشن قائدین اور اپوزیشن زیراقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقاتیں کررہے ہیں، لیکن ہریانہ میں انڈین نیشنل لوک دَل نے سابق نائب وزیراعظم آنجہانی دیوی لال کی پیدائش تقریب کے ضمن میں ایک عظیم الشان ریالی کا اہتمام کیا جس میں شرکت سے کے سی آر نے گریز کیا حالانکہ ٹی آر ایس حلقوں میں یہ کہا گیا تھا کہ کے سی آر اس ریالی میں شرکت کریں گے۔ اگرچہ کے سی آر ریالی سے غیرحاضر رہے لیکن بااثر علاقائی اپوزیشن قائدین نے شرکت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر نے ریالی میں شرکت کی حامی بھرنے کے باوجود ریالی میں شرکت سے گریز کیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ کانگریس ہے۔ گزشتہ ہفتہ اس وقت قومی سطح پر کافی سیاسی تبدیلیاں منظر عام پر آئیں جب چیف منسٹر بہار نتیش کمار، سابق چیف منسٹر بہار لالو پرساد یادو اور این سی پی سربراہ شرد پوار نے قومی سطح پر بی جے پی کے مقابلے کیلئے کانگریس کے ساتھ مل کر ’’مہا کوٹمی‘‘ بنانے کی کوششیں شروع کی تاکہ 2024ء کے عام انتخابات میں بی جے پی کا مقابلہ کیا جاسکے۔ کے سی آر کیلئے تشویش کی بات یہ ہے کہ ہریانہ کی انڈین نیشنل لوک دَل کی ریالی میں شریک تمام اپوزیشن قائدین کانگریس کو شامل کرتے ہوئے ’’مہا کوٹمی‘‘ یا عظیم اتحاد قائم کرنے کے حق میں دکھائی دیئے لیکن کانگریس اس عظیم اتحاد میں کانگریس کو شامل نہ کرنے کے حق میں ہیں۔ ان حالات میں کے سی آر نے سوچا کہ اگر وہ ریالی میں شرکت کرتے ہیں تو اس سے منو گوڑہ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات سے قبل عوام کو غلط پیغام جائے گا۔ ایک سینئر ٹی آر ایس لیڈر کے مطابق منو گوڑہ میں ہم بی جے پی اور کانگریس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اگر کے سی آر ہریانہ کی ریالی میں شرکت کرتے ہیں تو پھر بی جے پی کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ ٹی آڑ ایس اور کانگریس نے بی جے پی کے خلاف اتحاد کرلیا ہے جس سے حلقہ کے عوام کو غلط اشارے ملتے اور منو گوڑہ میں ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں۔