امیت شاہ اگلا نشانہ … راہول۔پرینکا کی لوک سبھا میں للکار
طلبہ سے دھوکہ… کاکروچ دوبارہ سڑک پر آنے تیار
رشیدالدین
سیاست میں ہیرو کب ویلن بن جائے کہا نہیں جاسکتا۔ ہر عروج کے ساتھ زوال کو لازمی تصور کیا جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح سیاست میں کب کیا ہوجائے کوئی گمان نہیں کرسکتا۔ بی جے پی کاسیاسی قلعہ بظاہر مضبوط دکھائی دے رہا ہے، وہ منہدم بھی ہوسکتا ہے۔ نیٹ امتحانی پرچہ کے افشاء کے خلاف ملک بھر میں Gen-Z کے احتجاج کے آگے مودی حکومت کو جھکنا پڑا۔ جنتر منتر پر جمع کاکروچوں کے خلاف طاقت کا استعمال جب بے فیض ثابت ہوا تو دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے ذریعہ مودی حکومت کی طرف بڑھتے نوجوانوں کے طوفان کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ طوفان بظاہر تھم چکا ہے لیکن سطح کے نیچے ناراضگی اور حکومت کے خلاف لہروں میں تیزی برقرار ہے۔ ہوا کے دباؤ میں کمی سے جس طرح سیلاب اور طوفان کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، اسی طرح Gen-Z کے سینے میں دبا طوفان کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے جو مودی حکومت کے قلعہ کو مسمار کرنے کیلئے کافی ہے۔ حکومت کو درپیش فوری خطرہ کو ٹالنے کیلئے دھرمیندر پردھان کی قربانی دی گئی لیکن استعفیٰ نے نوجوانوں اور اپوزیشن کے حوصلوں کو بلند کردیا ہے ۔ پیپر لیک پر جب استعفیٰ ہوسکتا ہے تو نوجوانوں پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال پر استعفیٰ کیوں نہیں ہوسکتا۔ اپوزیشن کے نشانہ پر وزیر داخلہ امیت شاہ ہیں۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے لوک سبھا میں مورچہ سنبھال لیا ہے اور امیت شاہ کے استعفیٰ سے کم کچھ قبول نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے مودی حکومت کی گھیرا بندی کی گئی۔ 2014 میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد ملک میں یہ ہوا کھڑا کردیا گیا کہ مودی حکومت کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔ زیادہ تر ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی جس کے بعد گودی میڈیا اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ یہ فرضی کہانی بنائی گئی کہ مودی حکومت کو شکست دینا آسان ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ اس نظریہ کی کمان امیت شاہ کے پاس ہے جو حکومت میں چانکیہ کا رول ادا کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب الیکشن ہارنے کا ڈر ہی نہیں تو پھر خوف کس بات کا لیکن Gen-Z نے اس فرضی قلعہ کو ڈھادیا اور یہ ثابت کردیا کہ جب نوجوان اٹھ کھڑے ہوں تو طاقتور قلعے بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ 12 برسوں میں پہلی مرتبہ مودی ۔امیت شاہ کی آنکھوں میں خوف دکھائی دے رہا ہے اور بی جے پی خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہے ۔ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں سے معاہدہ کیا گیا۔ تمام گرفتار شدگان کی رہائی اور مقدمات سے دستبرداری کے وعدہ کے بعد جنتر منتر پر احتجاج ختم کیا گیا لیکن توقع کے مطابق حکومت نے کسانوں کی طرح طلبہ اور نوجوانوں سے دھوکہ کیا۔ حکومت کی وعدہ خلافی پر Gen-Z دوبارہ سڑکوں پر آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کاکروچ پارٹی کا خوف سپریم کورٹ پر بھی طاری ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے عدالتی کارروائی کے ویڈیوز کو سوشیل میڈیا میں شیئر کرنے پر روک لگادی ہے۔ عدالتی کارروائی میں شفافیت کے لئے لائیو ٹیلی کاسٹ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جسٹس سوریہ کانت کے دو ریمارکس نے نہ صرف Gen-Z کی برہمی کو دعوت دی بلکہ مودی حکومت کیلئے بھی مسائل میں اضافہ کردیا۔ نوجوانوں کو کاکروچ کہنے پر کاکروچ جنتا پارٹی وجود میں آئی اور نوبت دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ تک پہنچ گئی۔ جنتر منتر پر پولیس مظالم کے خلاف جب معاملہ عدالت پہنچا تو چیف جسٹس سوریہ کانت نے وکیل سے کہا کہ اپنا اور عدلیہ کا وقت ضائع نہ کریں۔ جسٹس سوریہ کانت نے ریمارک کیا کہ پولیس مظالم کے ویڈیوز دیکھنے کیلئے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔جسٹس سوریہ کانت پر جب ہر گوشہ سے تنقیدیں کی جانے لگیں تو انہوں نے عدلیہ کی کارروائی کے ویڈیوز پر پابندی لگادی۔ چیف جسٹس نے بعد میں سماعت تو کی لیکن طلبہ کو مکمل انصاف نہیں ملا ۔ عدالت نے کم عمر بچوں کو رہا کرنے کا حکم دیا لیکن پولیس کو دوسرے طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر کی جانچ جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی آڑ میں پولیس کو جھوٹے مقدمات کے تحت ہراسانی کا موقع مل گیا۔ نوجوانوں کو عدلیہ سے ادھورے انصاف کی توقع نہیں تھی۔ نہ صرف دہلی بلکہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں چن چن کر احتجاج میں حصہ لینے والوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ جنتر منتر پر احتجاجیوں کے لئے کھانے اور پانی کا انتظام کرنے والے اترپردیش کے نوجوان جنید اور ان کے خاندان کو پولیس نے حراست میں لے کر بیرونی فنڈنگ کے بارے میں پھنسانے کی کوشش کی۔ نوجوانوں کو احتجاج سے دستبردار کرانے کیلئے بی جے پی حکومتوں کو مقدمات واپس لینے کی زبانی ہدایت دی گئی لیکن آج تک بھی مقدمات برقرار ہیں۔ مودی حکومت اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ لاٹھی چارج ، پیلٹ گن ، آنسو گیس ، کیل دار لاٹھیوں کے استعمال اور لڑکیوں کی توہین سے Gen-Z کے حوصلے پست ہوں گے لیکن کاکروچ میں مزاحمت اور مدافعت کی طاقت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق کاکروچ ایٹمی حملے کے باوجود بھی زندہ رہنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب جسٹس سوریہ کانت کے دیئے ہوئے نام پر کاکروچ جنتا پارٹی وجود میں آئی تو ان میں اصلی کاکروچ کی کچھ تو عادات اور خوبیاں آنی ہی تھیں۔ اگر کاکروچ پارٹی کو مودی حکومت اپوزیشن کی طرح نمٹنے کی کوشش کرے تو احتجاج کی آگ دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔ بعض غیر جانبدار اور بیباک صحافیوں نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ثابت کیا کہ پولیس نے جنتر منتر پر پتھروں سے بھرا ٹرک رکھا تھا تاکہ حالات بگڑنے پر طلبہ کو مورد الزام ٹھہرایا جائے۔
پارلمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن نے حکومت کو مکمل طور پر گھیرلیا اور راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے حکومت کے خلاف مورچہ سنبھال لیا ہے ۔ لوک سبھا میں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے نہ صرف حکومت بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ حکومت پر کسی بم سے کم نہیں تھا اور اسپیکر اوم برلا نے 17 مرتبہ جبکہ راجناتھ سنگھ اور کرن رجیجو نے 11 مرتبہ راہول گاندھی کی تقریر میں مداخلت کی۔ آخرکار راہول گاندھی کو تقریر مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ امیت شاہ کا نام لیتے ہی اسپیکر اور بی جے پی کے تمام ارکان میں برقی رو دوڑ گئی اور امیت شاہ کے دفاع میں ہر کوئی میدان میں کود پڑا۔ راہول گاندھی سے معذرت خواہی کی مانگ کی جارہی ہے ۔ حالانکہ دہلی پولیس پر وزارت داخلہ کا کنٹرول ہوتا ہے اور امیت شاہ کی اجازت کے بغیر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ مودی اور امیت شاہ پارلیمنٹ کی کارروائی سے غیر حاضر رہے کیونکہ وہ حقائق کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ راہول گاندھی سے معذرت کے مسئلہ پر بی جے پی کا دوہرا معیار بے نقاب ہوا ہے۔ یہ وہی بی جے پی ہے جس نے ایودھیا میں کارسیوکوں پر فائرنگ کیلئے اس وقت کے چیف منسٹر ملائم سنگھ یادو کو ذمہ دار قرار دیا تھا جبکہ ضلع مجسٹریٹ نے فائرنگ کا حکم دینے کا اعتراف کیا۔ ٹھیک اسی طرح امیت شاہ کو بچانے کیلئے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے لاٹھی چارج کی اجازت کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ضلع مجسٹریٹ نے امیت شاہ کی اجازت کے بغیر یہ کام تو نہیں کیا ہوگا۔ راہول گاندھی سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے سے پہلے بی جے پی کو ملائم سنگھ یادو سے معذرت خواہی کرنی چاہئے۔ اگر امیت شاہ نے پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت نہیں دی تو پھر انہوں نے آج تک اس اقدام کی مذمت کیوں نہیں کی اور نہ ہی اسے غلط قرار دیا۔ امیت شاہ کی خاموشی خود ان کی رضامندی کا اظہار ہے۔ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد پرہلاد جوشی کو وزیر تعلیم مقرر کیا گیا۔ پرینکا گاندھی نے پرہلاد جوشی کی قابلیت اور ان کی ذہنیت کو پارلیمنٹ میں بے نقاب کردیا اور گجرات میں بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت ریزی کے خاطیوں کی تائید سے متعلق پرہلاد جوشی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ایوان میں سنسنی دوڑا دی۔ گجرات فسادات میں بلقیس بانو کی عصمت ریزی معاملہ میں عدالت نے 2008 میں 11 ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔ گجرات حکومت نے 2022 میں تمام مجرمین کی سزا معاف کرتے ہوئے جیل سے رہا کردیا۔ 2024 میں سپریم کورٹ نے رہائی کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے خاطیوں کو دوبارہ جیل بھیج دیا۔ پرہلاد جوشی نے 2022 میں مجرمین کی رہائی کے موقع پر حکومت کے فیصلہ کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ خاطی کئی برسوں تک جیل میں گزارچکے ہیں اور حکومت کا رہائی سے متعلق فیصلہ قانون کے عین مطابق ہے۔ پرہلاد جوشی قابلیت کا اندازہ اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس دور حکومت میں بجلی کی سربراہی کم تھی جس کے نتیجہ میں ملک کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی وعدہ خلافی پر Gen-Z کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ عدنان پرتاپ گڑھی نے کیا خوب کہا ہے ؎
کتنا ویران اُس نے چمن کردیا
ہم نے کس کے حوالے وطن کردیا