لندن :برطانیہ کے سابق چانسلر اور سابق وزیر مالیات رِشی سونک نے برطانیہ کے وزیر اعظم کی حیثیت سے بورس جانسن کی جگہ لینے کے لیے اپنی دعویداری پیش کر دی ہے۔ انھوں نے اپنی مہم کی شروعات کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں کہا ہے کہ کسی کو موقع کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا اور درست فیصلہ لینا ہوگا۔ سونک نے یہ دعویداری موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پیش کی ہے، کیونکہ بورس جانسن کابینہ سے استعفیٰ دینے والے بیشتر اراکین پارلیمنٹ ان کی حمایت میں ہیں۔قابل ذکر ہے کہ بورس جانسن کی مخالفت میں وزراء کے استعفے کی شروعات منگل کو ہند وستانی نژاد سابق وزیر فینانس رِشی سونک سے ہی ہوئی تھی۔ اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے سونک نے کہا تھا کہ ’’عوام امید کرتے ہیں کہ حکومت صحیح طریقے سے اور سنجیدگی سے کام کرے گی۔ ہمارے نظریات بنیادی طور پر بہت الگ ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مجھے حکومت چھوڑنے کا افسوس ہے، لیکن میں بے دلی سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہم اس طرح سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘