ہاسن (کرناٹک): چند ہندو نوجوانوں اور مورتی بنانے والوں کے درمیان کرناٹک کے ضلع ہاسن کی ایک مندر میں بحث و تکرار ہوگئی تھی۔ گزشتہ مئی کے اس واقعے کے بعد حال ہی میں اس کا نتیجہ سامنے آیا جس میں مورتیوں کو توڑدیا گیا۔ لیکن اس واقعے کو کئی قومی اور مقامی کنڑ ٹی وی چینلوں نے نفرت پر مبنی جرم کی حیثیت سے پیش کیا۔ ٹی وی چینلوں نے الزام عائد کردیا کہ مورتیاں توڑنا مسلمانوں کی کارستانی ہے۔ حتی کہ وی ایچ پی اور بجرنگ دل جیسے زعفرانی گروپوں نے مسلمانوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج بھی کیا۔ 30 مئی 2022ء کو چند ہندو شرپسند مندر کے احاطہ میں گھس آئے اور مورتیوں کو توڑڈالا اور فوری فرار ہوگئے۔