ہندوستان میں میرؔ کے تمام مخطوطات کو انجمن میں جمع کرنا عظیم کارنامہ : ڈاکٹر ایرج الہٰی

   

نئی دہلی؍تہران : انجمن ترقی اردو کے مرکزی دفتر اردو گھر کے آڈیٹوریم میں تقریر کرتے ہوئے ہندوستان میں ایران کے سفیر کبیر ڈاکٹر ایرج الہٰی نے کہا کہ انجمن نے نہ صرف میر تقی میرؔ کے کلام نثر و نظم کے تمام مخطوطات کو اپنی لائبریری میں جمع کرکے اور نور مائیکرو فلم کے ذریعہ ان مخطوطات نیز لائبریری کے دیگر مخطوطات کے وسیع تر استفادہ کیلئے ڈیجیٹائزیشن ایک ایسے وقت میں اہم ترین کارنامہ ہے جب کتب خانے تیزی سے تباہ ہورہے ہیں۔ انہوں نے میر کی خودنوشت ذکرِ میر کے مکمل متن کی بازیافت پر انجمن کو مبارکباد دیتے ہوئے اور اس کے نہایت عمدہ ترجمے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہر چند کہ مجھے اردو نہیں آتی مگر میرے جن رفیقوں نے بھی ڈاکٹر صدف فاطمہ کا یہ ترجمہ پڑھا ہے، انہوں نے اس ترجمے کو بے مثال ترجمے سے تعبیر کیا ہے۔ جلسہ کے افتتاح سے پہلے سفیرکبیر نے نے انجمن کی لائبریری میں ان مخوطات کی نمائش کا افتتاح کیا اور وہاں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کاش ہندوستان میں اردو اور فارسی کی ہر لائبریری ایسی ہی مثالی ہوجائے۔ جلسہ کا کلیدی خطبہ فارسی کے عالم بے دل شریف حسین قاسمی نے پڑھا۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اردو میں اب تک میر پر ایسا کوئی شمارہ شائع نہیں ہوا جو اردو ادب کے اس مثالی نمبر کے ہم پلہ ہو۔ انہوں نے ایرانی سفیر سے درخواست کی کہ انہیں اس شمارے میں دنیا کی ہر اس لائبریری میں پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ قاسمی نے یہ بھی کہا کہ انجمن ترقی اردو (ہند) کی لائبریری کو چند ہزار باقیماندہ اردو اور فارسی کتب کو بھی نور مائیکرو فلم کو اس سلیقے سے ڈیجیٹائز اور ایسی ہی خوبصورت جلد بندی کرنی چاہئے جو نور مائیکرو فلم سنٹر کا اختصاص ہے۔ سفیرکبیر نے اپنی تقریر جوکہ قاسمی صاحب کے بعد کی تھی، اس لئے انہوں نے وعدہ کیا کہ ایران کلچر ہاؤس ان کے تمام مشوروں پر جلد ہی عمل شروع کرے گا۔ انجمن ترقی اردو (ہند) کے لائف ٹرسٹی اور ماہرقانون اور سابق وزیرخارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ ان کے نانا ڈاکٹر ذاکر حسین نے عمر بھر ادارہ سازی ہی کی مگر جس عزت و احترام کے ساتھ انجمن کو اس کی وراثت پر ناز ہے، انہوں نے کسی اور ادارے میں اس کا مشاہدہ نہیں کیا۔ پروفیسر اخترالواسع نے پروفیسر شریف حسین قاسمی کی تجاویز اور سفیرکبیر ایران کے ذریعہ انہیں منظور کرنے پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب کا میر تقی میر نمبر مطالعاتِ نمبر میر میں نئی عمارت کی سنگ بنیاد ہے۔
انہوں نے انجمن کی تمام ترقی اور ان تاریخ ساز کاموں کو نہایت خاموشی سے اور بغیر اردو کے مجاہد کی امیج بنانے کی کوشش کے بغیر صوفیوں کی طرح کام کرنے والے صوفی صفت اطہر فاروقی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ادارے کیلئے اپنی صحت بھی برباد کرلی۔ انہوں نے اس پر زور دیکر کہا کہ انہیں امید ہیکہ سلمان خورشید اور ایران کلچر ہاؤس کا مشترک دلچسپی کے کاموں میں تعاون جاری رہے گا۔