ہندوستان میں نان ویجیٹیرین غذاؤں کا غلبہ، محض 23 فیصد ویجیٹیرین آبادی

   

راجستھان ، ہماچل اور ہریانہ میں ویجیٹیرین غذاؤں کا زائد استعمال، تلنگانہ اور بنگال میں صرف ایک فیصد ویجیٹیرین آبادی
حیدرآباد ۔25 ۔ جون (سیاست نیوز) ملک میں نفرتی عناصر کی جانب سے نان ویجیٹیرین غذاؤں کے خلاف مہم کے باوجود ہندوستان میں محض 23.89 فیصد آبادی ویجیٹیرین ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں ویجیٹیرین غذاؤں کے استعمال پر سروے کیا گیا جس میں مغربی اور مشرقی ریاستوں میں ویجیٹیرین غذاؤں پر زیادہ انحصار دیکھا گیا ہے۔ ویجیٹیرین کے معاملہ میں راجستھان ملک میں سرفہرست ہے جہاں 75 فیصد آبادی ویجیٹیرین ہے۔ گجرات ، پنجاب ، ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں بھی ویجیٹیرین آبادی قابل لحاظ درج کی گئی ہے۔ قومی سطح پر محض 23.9 فیصد ویجیٹیرین آبادی سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کی اکثریت نان ویجیٹیرین ہے۔ سروے میں ہریانہ اور ہماچل پردیش میں 70 فیصد اور گجرات اور پنجاب میں علی الترتیب 66 اور 62 فیصد ویجیٹیرین آبادی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مہاراشٹرا میں 50 فیصد جبکہ مدھیہ پردیش اور اترپردیش میں علی الترتیب 50 اور 47 فیصد آبادی کی اولین ترجیح ویجیٹیرین غذائیں ہیں ملک کی جن ریاستوں میں ویجیٹیرین آبادی سب سے کم درج کی گئی ، ان میں مغربی بنگال ، تلنگانہ ، آندھراپردیش ، ٹاملناڈو ، جھارکھنڈ اور اڈیشہ شامل ہیں۔ تلنگانہ اور مغربی بنگال میں محض ایک فیصد عوام ویجیٹیرین ہے جبکہ آندھراپردیش اور ٹاملناڈو میں یہ فیصد مجموعی طور پر 2 ریکارڈ کیا گیا۔ ملک میں نان ویجیٹیرین غذاؤں کی مقبولیت میں اضافہ کے نتیجہ میں میٹ اور بیف کے کاروبار میں اضافہ کا رجحان ہے۔ سروے کے مطابق میٹ اور چکن کے علاوہ سی فوڈ کی مختلف اقسام کی ڈشش نے ویجیٹیرین پر انحصار کرنے والوں کو بھی نان ویجیٹیرین اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔1/k/m/b