ہندوستان کے خلاف مقابلہ ٹسٹ کرکٹ کی بہترین تشہیر

   


برسٹل ۔ انگلینڈ کی کپتان ہیتھر نائٹ نے ہندوستان کے خلاف منعقدہ واحد ٹسٹ کو خاتون ٹسٹ کرکٹ کی بہترین تشہیر قرار دیا اور کہا کہ موجودہ چار دنوں کے ٹسٹ کے برعکس پانچ دن کا ٹسٹ ہونا چاہئے۔ ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان منعقدہ واحد ٹسٹ ہندوستان کی دوسری اننگز میں شاندار بیٹنگ کی بدولت بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوا، حالانکہ ہندوستان کو اس مقابلہ میں فالو آن کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن دوسری اننگز میں ہندوستان نے چوتھے دن کے کھیل کے اختتام پر 8 وکٹوں کے نقصان کے بعد 344 رنز اسکور کئے۔ چوتھے دن انگلش ٹیم کو کامیابی کے لئے 9 وکٹیں درکار تھیں لیکن وہ یہ تمام وکٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ انگلش ٹیم نہ صرف ہندوستان کو فالو آن کے بعد اپنے مجموعی اسکور 396/9 کے اسکور سے قبل روکنے میں ناکام رہی بلکہ 9 وکٹیں حاصل بھی نہیں کر پائی۔ اس مقابلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے انگش کپتان نے کہا کہ یہ ایک انتہائی شاندار مقابلہ رہا لیکن بدقسمتی سے ہم مقابلہ کو اپنے نام نہ کرسکے بلکہ یہ اختتام لمحات میں ایک بہترین لیکن ڈرامائی انداز میں اختتام پذیر رہا۔ نائٹ نے مزید کہا کہ یہ ایک بہترین تشہیر ہے جس کے ذریعہ خاتون زمرہ کے ٹسٹ کی موجودگی کا بھی احساس دلایا جاسکتا ہے اور امید ہے کہ ہم پانچ دنوں کا ٹسٹ کھیلیں گے۔ جب ان سے کہا گیا کہ خاتون زمرہ کا ٹسٹ بھی اگر پانچ دنوں کا کردیا جائے تو کیا وہ اس کی حمایت کریں گی جس پر انگلش کپتان نے کہا کہ یقینا وہ اس کی حمایت کرنے کے علاوہ اس کا آغاز بھی کریں گی کیونکہ کئی ایسے ٹسٹ ہیں جو کہ چار دنوں کی پابندی کی وجہ سے بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوئے۔ اگر ٹسٹ میں پانچ دنوں کا وقت مقرر کیا جائے تو کئی مقابلے نتیجہ خیز ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے خلاف منعقدہ مقابلہ کے ضمن میں انہوں نے کہا کہ ہم مقابلہ میں کامیابی کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن ہمیں اس لئے کامیابی حاصل نہیں ہو پائی کیونکہ ٹسٹ میں مزید ایک دن کا وقت نہیں تھا، اس لئے میں پانچ دن کے ٹسٹ کی حمایت کرتی ہوں۔ نائٹ نے کہا کہ اگر اس مقابلہ میں ایک اور دن کا وقت ہوتا تو یقینا مقابلہ کا ایک بہترین اختتام ہوتا۔ انگلش کپتان نے مزید کہا کہ موسم کی وجہ سے بھی ہمارا وقت ضائع ہوا اور مکمل میچ کے دوران ہم ان حالات کے مخالف نہیں جاسکتے۔ مقابلہ میں مجموعی طور پر فی گھنٹہ ڈالے جانے والی اوورس کی تعداد کافی بہتر تھی۔ نائٹ کے بموجب خاتون زمرہ کے کرکٹ میں زیادہ وقت مہیا نہیں کیا گیا۔ اگر پانچ دن کا ٹسٹ ہوتا تو ہندوستان کے خلاف منعقدہ مقابلہ کا سنسنی خیز اختتام بھی ممکن تھا۔ ہندوستان کے خلاف پہلی اننگز میں 95 رنز بنانے کے علاوہ تین وکٹیں حاصل کرنے والی انگلش کپتان نائٹ نے کہا کہ جس طرح مقابلہ کا اختتام ہوا وہ مایوس کن ہے کیونکہ تمام مقابلہ بہترین کرکٹ کھیلی گئی لیکن نتیجہ حاصل نہیں کیا جاسکا۔ یہ ایک شاندار اور بہترین مقابلہ رہا اور میں سمجھتی ہوں کہ چند بہترین اور نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو منوانے کی یہ ایک بہترین تشہیر رہی کیونکہ دونوں ہی ٹیموں میں پہلی مرتبہ شامل کی جانے والی کئی کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے اور ان کے مظاہرے ناقابل فراموش رہے۔ جب نائٹ سے پوچھا گیا کہ انگلینڈ کو کامیابی حاصل کرنے کا مقابلہ میں بہترین موقع تھا اور ہندوستان کو فالو آن دینے کے بعد کامیابی حاصل نہ کرنا کیا انگلینڈ کی شکست ہے؟ اس پر نائٹ نے کہا کہ نہیں یہ شکست نہیں کیونکہ ہمیں اس مقابلہ کو مثبت انداز میں لینا ہے کیونکہ ہم نے کامیابی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی اور ساتھی کھلاڑیوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی خاص کر صوفی اکلیسٹون نے 60 سے زیادہ اوورس کی بولنگ کی۔ انگلش کپتان نے نوجوان ہندوستانی اوپنر شفالی ورما کی بھی کافی ستائش کی اور کہا کہ شفالی نے جس طرح سے بیٹنگ کی ہے اس کے بعد ونڈے اور ٹی 20 سیریز کافی دلچسپ ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ شفالی نے اس مقابلہ میں 96 اور 63 رنز کی اننگز کھیلی ہے۔