ہندوستانیوں میں سائنسی مزاج سرسید احمد نے پیدا کیا: انصاری

   

بھوپال: اکیسویں صدی کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی صدی کہا جاتا ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی اس صدی میں سائنسی ایجادات سے جہاں عقل حیران ہے وہیں نئے نئے انکشافات اور قدرت کے راز کو افشاں کرنے کیلئے ہر ملک اپنی اپنی بساط بھر کوشش کر رہا ہے۔ چندریان3کی کامیابی کے بعد جہاں دنیا میں ہندوستانی سائنس دانوں کے قد میں اضافہ ہوا ہے ، وہیں ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستانیوں میں سائنسی مزاج پیدا کرنے کاخواب سب سے پہلے 1864میں سر سید احمد خان نے دیکھا تھا۔ان خیالات کا اظہارسابق ائی پی ایس افسر ایم ڈبلیوانصاری علیگ نے کیا۔ انھوں نے کہا کہ سر سید احمد خان نے 1857کے بعد جب ملک کے باشندوں کی سر بلندی کا خاکہ تیار کیا تو اس میں سب سے پہلے انہوں نے روایتی طریقہ تعلیم کو ترک کر کے سائنسی علوم حاصل کرنے کی تلقین کی۔ سر سید نے روایتی طریقہ تعلیم کو ترک کرنے اور سائنسی علوم حاصل کرنے پر زور دیا تھا۔
کی بات کہی تھی جس میں لوگ انگریزوں کی نفرت میں اس کی اچھی چیزوں پر بات کرنے سے متنفر ہو جاتے تھے ۔