بروسلز: یورپ کے ماحولیاتی ادارے یورپین انوائرمنٹ ایجنسی نے کہا ہے کہ اگر کوئی اقدامات نہ کیے گئے تو تو گرمی کی لہریں یا ہیٹ ویوز صدی کے آخر تک ہر سال یورپ کے 90 ہزار شہریوں کی موت کا باعث بن سکتی ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایجنسی نے بتایا کہ ’موافق اقدامات کے بغیر، اور سنہ 2100 تک تین ڈگری سیلسیس گلوبل وارمنگ کے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے 90 ہزار یورپی سالانہ شدید گرمی سے مر سکتے ہیں۔انوائرمنٹ ایجنسی کے تخمینے کے مطابق اگر تین ڈگری سینٹی گریڈ کے بجائے ایک اعشاریہ پانچ یا ڈیڑھ ڈگری سیلسیس کی گلوبل وارمنگ ہو تو یہ اموات سالانہ 30 ہزار تک کم ہو جاتی ہیں۔ترقی یافتہ ممالک نے گلوبل وارمنگ کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح یعنی 1.5 ڈگری سیلسیس تک رکھنے کا عہد کیا ہے۔ ایجنسی نے انشورنس کمپنیوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 1980 سے سنہ 2020 کے درمیان تقریباً ایک لاکھ 29 ہزار یورپی باشندے گرمی کی شدت سے ہلاک ہوئے۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید گرمی کی لہروں، بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کے پھیلنے سے آئندہ برسوں میں خاص طور پر براعظم یورپ کے جنوب میں اموات کی تعداد میں اضافے کا امکان بڑھ گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے پیر کو کہا تھا کہ یورپ میں گرم موسم کی وجہ سے رواں سال اب تک کم از کم 15 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایلون مسک نے ٹیسلا کے 4 ارب ڈالر کے شیئرفروخت کئے
لاس اینجلس: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اپنی الیکٹرک کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے 3.95ارب ڈالر قیمت کے 19.5 کروڑ کے شیئر فروخت کئے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا، جو پندرہ دن قبل ٹوئٹر پر 44 ارب ڈالر میں حاصل کرنے کے بعد سرخیوں میں آئی تھی، اس سال کے آغاز سے ہی مشکل میں دکھائی دینے لگی تھی۔ ٹیسلا کے شیئر کی قیمت میں اس سال کے آغاز سے 50 فیصد سے زیادہ گراوٹ آئی ہے ۔