اترپردیش میں انتخابی بگل بجنے کو ابھی چھ ماہ سے زیادہ وقت باقی ہے تاہم ریاست میں برسر اقتدار جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عملا اپنی اپنی تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ ملک کی سیاست میںاترپردیش کی سب سے زیادہ اہمیت ہے ۔ یہاںاقتدار حاصل کرنے والی جماعت کا قومی سیاست میں اہم رول ہوتا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اترپردیش میںکامیابی نے بی جے پی کیلئے مرکز میںاستحکام بخشنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ اسی طرح جب جب اترپردیش میںغیر بی جے پی جماعتوں کی حکومت رہی اس وقت مرکز میں بی جے پی کو اقتدار نہیں مل سکا ہے ۔ اب جبکہ کورونا کی دوسری لہر نے تباہی مچائی ہے اور اترپردیش میں حکومت کے تئیں عوام میں شدید ناراضگی اورغم و غصہ پایا جاتا ہے بی جے پی کی جانب سے عوام کے موڈ کو قابو میں کرنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ جو کچھ کوششیں کی جا رہی ہیں وہ محض کورونا کی تباہی اور عوامی مشکلات و مصائب سے تو جہ ہٹانے کیلئے کی جا رہی ہیں۔ حقیقت میں عوام کو راحت پہونچانے پر بی جے پی یا حکومت کی اب بھی کوئی کوشش نہیں ہے ۔ اس صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں کیلئے ایک موقع ہے کہ وہ حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ایسی جامع حکمت عملی کے ساتھ انتخابی میدان میںآئیں جس کے تحت بی جے پی کو شکست سے دوچار کیا جاسکے ۔ اگر اسمبلی انتخابات میں اترپردیش میں بی جے پی کو شکست ہوسکتی ہے تو پھر 2024 کے عام انتخابات پر بھی اس کا اثر مرتب ہوسکتا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کیلئے ایک موقع ہے کہ وہ ابھی سے خود کو عوام کے موڈ کے مطابق اور ملک کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیاسی تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔ جہاں جہاں ممکن ہوسکتا ہے کہ ان جماعتوںکو آپسی اتحاد کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی جماعتیں چاہے وہ علاقائی ہوں یا پھر قومی سطح کی جماعتیں ہوں سبھی کو اپنی سیاسی انا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ سبھی کا ایک مقصد ہونا چاہئے کہ ملک کے مفادات کا تحفظ کرنے والے متبادل کو پیش کرسکیں۔ عوام کو جب تک ایک مستحکم اور موثر متبادل نظر نہیں آئیگا اس وقت تک تائید ملنی مشکل ہوجائے گی ۔
اترپردیش میں کانگریس نے بی ایس پی یا سماجوادی پارٹی کے ساتھ الگ الگ مواقع پر اتحاد کیا ہے تاہم کانگریس ریاست میں اپنی تنظیم میںکوئی جان نہیں ڈال سکی اور نہ رائے دہندوں پر اثر انداز ہوسکی ہے ۔ اسی صورتحال میں پرینکا گاندھی واڈرا کو ریاست کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔ اب جبکہ الیکشن کیلئے ابھی آٹھ ماہ کا وقت باقی ہے پرینکا گاندھی کو انتہائی سرگرم رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ رائے عامہ کو ہموار کرنے کی ضرورت ہے ۔ پارٹی کیڈر میں نیا جوش و خروش پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ حد تک عوامی تائید حاصل کی جاسکے ۔کانگریس ریاست میں راتوں رات خود کوئی متبادل تو نہیں بن سکتی تاہم اس مقصد کیلئے جوش و خروش کے ساتھ شروعات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح سماجوادی پارٹی کا کہنا ہے کہ بی ایس پی اور کانگریس کمزور اتحادی جماعتیں ہیں اسی لئے اس نے ان جماعتوں کے ساتھ انتخابی مفاہمت نہ کرنے اور تنہا مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے ۔ سماجوادی پارٹی بھی اگر خود کو ایک مستحکم متبادل کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرپاتی ہے اور انتخابات کے بعد صورتحال کے مطابق کوئی اتحاد کیا جاسکتا ہے تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے ۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر جماعت اپنے آپ کے زعم میں نہ رہے بلکہ حالات کے تقاضوںکو اور عوام کی توقعات کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ عوام کی توقعات کو پورا کرنے کی کوئی جامع حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ مقابلہ شدت سے کیا جاسکے ۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہی ہماری شان ہے ۔ عوام کے ہاتھ میں یہ اختیار ہے کہ وہ جسے چاہیں اقتدار پر فائز کریں اور جسے چاہیں اقتدار سے بیدخل کیا جائے ۔ جب تک عوام کی توقعات کو پورا کرنے کیلئے سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو اہل ثابت نہیں کرتیں اس وقت تک صرف گمراہ کن مہم کے ذریعہ انتخابات ہوتے رہیں گے ۔ یہ عمل نہ صرف جمہوری تقاضوںکے مغائر ہوگا بلکہ اس سے قومی ترقی بھی متاثر ہوگا اور ملک کے مفادات کی تکمیل بھی نہیں ہوسکے گی ۔ اپوزیشن جماعتوں کو اقتدار سے محرومی کے اثر سے باہر آنا پڑے گا ۔ انہیں اپوزیشن کی ذمہ داری کا بھی پوری سنجیدگی سے احساس کرنا پڑیگا اور نئے عزم و حوصلے کے ساتھ جمہوری میدان عمل میں کودنا ہوگا ۔ اسی وقت جا کر عوام کی توقعات کو پورا کیا جاسکتا ہے ۔ ملک میںایک موثر متبادل فراہم کیا جاسکتا ہے اور ملک کے مفادات کی تکمیل ہوسکتی ہے ۔
