ہنگری میں ایک غیر رسمی یوروپی سربراہی کانفرنس سے جرمن چانسلر اولاف شولز کا خطاب
بڈا پیسٹ : جرمن چانسلر اولاف شولز نے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اگلے دورصدارت میں بھی امریکہ کے ساتھ مل کر اچھی طرح کام کرتے رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہنگری میں ایک غیر رسمی یورپی سربراہی کانفرنس کے موقع پر کہی۔ ہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ میں 8 نومبر کو یورپی یونین کے رکن ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت کی جو غیر رسمی سمٹ ہو رہی ہے، اس میں شرکت کرتے ہوئے جرمن چانسلر شولز نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اگلے سال جنوری میں شروع ہونے والی ڈونالڈ ٹرمپ کے دوسری صدارتی میعاد میں بھی جرمنی اور یورپی یونین امریکہ کے ساتھ مل کر اچھی طرح کام کرتے رہیں گے۔ ساتھ ہی جرمن سربراہ حکومت نے یہ بھی کہا کہ یورپ کو سلامتی کے شعبہ میں اپنے داخلی تعاون کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اولاف شولز کے الفاظ میں، ہمارے لیے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر جو کچھ بھی کرنا ضروری ہے، اس کے لیے ہمیں یورپی یونین اور یورپ کی حیثیت سے ہرحال میں مل کر کام کرنا ہو گا۔ اولاف شولز نے بوڈاپیسٹ میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سربراہان سے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ مشترکہ کوشش صرف اسی وقت کامیاب ہو گی، جب اس میں ہر کوئی اپنا کردار ادا کرے گا۔ چانسلر شولز نے یورپی یونین کی سمٹ سے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ گزشتہ کئی عشروں میں پہلی مرتبہ جرمنی اپنے دفاع پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد سے بھی زائد کے برابر مالی وسائل خرچ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف جرمنی ہی ایسا نہیں کر رہا ، بلکہ دیگر ممالک بھی ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں اور ایسا کریں گے بھی۔ اس پس منظر میں چانسلر شولز نے بوڈاپیسٹ میں اپنی اور یورپی یونین کے باقی رکن ممالک کے رہنماؤں کی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے زور دے کر کہا، یورپ مستقبل کے نئے امریکی صدر کے ساتھ بھی اچھی طرح کام کرتا رہے گا۔ جرمن سربراہ حکومت نے بدھ کے روز ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابی فتح واضح ہو جانے کے بعد ان کو فوری طور پر مبارک باد کا پیغام بھیجا تھا، جس میں انہوں نے ٹرمپ کو قابل اعتماد شراکت داری کی پیشکش کی تھی۔ بوڈاپیسٹ میں یورپی یونین کی جمعہ کے روز ہونے والی غیر رسمی سربراہی کانفرنس میں رکن ممالک کے سربراہان اس بارے میں مشورے کر رہے ہیں کہ مستقبل میں امریکہ اور چین کے مقابلہ میں یونین کی اقتصادی مقابلے کی صلاحیت کیسے بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ یورپی یونین ایک بلاک کے طور پر اپنے ہاں اقتصادی شرح نمو کو بہت بہتر بنانے کے لیے کئی برسوں سے کوشاں ہے۔ پہلے اس عمل میں کووڈ انیس کی عالمی وبا ایک بڑی رکاوٹ بن گئی تھی اور پھر 2022ء میں روس کی طرف سے یوکرین میں فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی روسی یوکرینی جنگ اور اس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ سے پیدا ہونے والے بحران نے بھی بڑا منفی کردار اد اکیا تھا۔
اب امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کے بعد اس بات کی ضرورت شدید تر ہو گئی ہے کہ یورپ اپنی اقتصادی ترقی کی رفتار میں اضافہ اور داخلی طور پر سلامتی کے شعبے میں قریبی تعاون کو یقینی بنائے۔