واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ نے کانگریس میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ منگل کو پہلے انہیں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کا ایک خط موصول ہوا، جس میں یوکرین نے مستقل امن حاصل کرنے کیلئے بات چیت میں دوبارہ شامل ہونے کی اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ کیف ایک ’’پائیدار امن‘‘ کے قیام کیلئے مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے تیار ہے ۔ ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب کے دوران کہا کہ آج سے پہلے مجھے یوکرین کے صدر زیلنسکی کی طرف سے ایک اہم خط موصول ہوا۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ یوکرین پائیدار امن کیلئے جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے تیار ہے ۔یوکرین کے لوگوں سے زیادہ کوئی بھی امن نہیں چاہتا…میں اور میری ٹیم پائیدار امن کے حصول کیلئے صدر ٹرمپ کی مضبوط قیادت میں کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔زیلنسکی نے یوکرین کی مدد کیلئے واشنگٹن کی طرف سے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی۔مپ نے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معدنیات اور سکیورٹی کے حوالے سے سمجھوتے کے سلسلے میں یوکرین آپ کیلئے کسی بھی وقت اس پر دستخط کرنے کیلئے تیار ہے ۔میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے یہ خط بھیجا۔ یہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ملا۔ امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے روس کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کی ہے اور انہیں مضبوط اشارے ملے ہیں کہ وہ امن کیلئے تیار ہیں۔