واشنگٹن ۔ 31 اکتوبر (ایجنسیز) امریکہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم یہ میزائل 2030 کی دہائی سے قبل دستیاب ہونے کا امکان نہیں۔ یوکرین اس خریداری کی مالی معاونت کینیڈا، جرمنی، ناروے اور یورپی یونین کے فنڈز سے کرے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کی مالیت تقریباً 2.1 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ اقدام دوسری ٹرمپ انتظامیہ کے آغاز کے بعد کییف کو دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کے اہم ترین فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تاہم یوکرین کو یہ میزائل جلد ملنے کا امکان نہیں۔ اس فیصلے سے آگاہ دو ذرائع کے مطابق یہ میزائل ابھی تیار بھی نہیں کیے گئے اور ان کی فراہمی 2030 کی دہائی کے اوائل میں متوقع ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کے ساتھ ڈیزل معاہدہ کے اعلان اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی پر روسی آئل ریفائنریوں پر حملے نہ روکنے پر تنقید کے بعد، میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر نے واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ یوکرین طویل عرصے سے کہتا آیا ہے کہ اسے روسی میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید فضائی دفاعی میزائل درکار ہیں۔ پیٹریاٹ میزائل نظام تیز رفتار بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت کے باعث سب سے موثر دفاعی نظام تصور کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یوکرین کی وزارت دفاع پینٹگان پر زور دے رہی ہے کہ ان میزائلوں کی فراہمی کا عمل تیز کیا جائے۔ امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن اس معاہدہ کی مرکزی ٹھیکیدار ہوگی۔