یوکرین کو ہتھیار دینے والی یورپی فیکٹریاں روس کے نشانے پر

   

ماسکو : یکم اکٹوبر ( یو این آئی ) روس نے خبردار کیا ہے کہ یورپی ممالک میں یوکرین کے لیے ہتھیار تیار کرنے والی فیکٹریاں روس کے لیے ممکنہ فوجی اہداف بن سکتی ہیں۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ ان فیکٹریوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یوکرین کی سرزمین سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ محفوظ رہیں گی۔زاخارووا نے ماسکو میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یورپی ممالک یوکرین کو مسلسل فوجی مدد فراہم کرکے جنگ میں براہِ راست شامل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق یورپ میں اسلحہ ساز فیکٹریاں قائم کرنا اور مشترکہ دفاعی منصوبے شروع کرنا جنگ میں یورپی شمولیت کو مزید بڑھا رہا ہے اور روس کے مطابق اس سے جنگ کے خاتمے کی کوششیں تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں۔روسی ترجمان کا یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ پولینڈ یوکرین کے لیے پیٹریاٹ میزائلوں کے انٹرسیپٹرز تیار کرنے والی ایک فیکٹری کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ نیٹو اور متعدد یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ وہ روسی حملوں کے مقابلے میں یوکرین کی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے فوجی امداد جاری رکھیں گے۔دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے نیٹو کی سرزمین کے لیے فوری خطرے کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔ ان کے مطابق روس کے حوالے سے نیٹو کا خطرے کا جائزہ گزشتہ چند ہفتوں، مہینوں اور ایک سال کے مقابلے میں بنیادی طور پر تبدیل نہیں ہوا۔