داخلہ فیس 40 روپئے مقرر ، 2400 اسٹالس لگائے گئے ، ثقافتی اور تفریحی انتظامات کو بھی قطعیت دی گئی
حیدرآباد ۔ 28 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : آل انڈیا صنعتی نمائش کے انعقاد کے لیے تمام تیاریاں آخری مراحل میں پہونچ گئی ہیں ۔ نمائش سوسائٹی کے زیر اہتمام یکم جنوری کو نامپلی نمائش میدان میں 83 ویں نمائش کے افتتاح کے لیے بڑے پیمانے پر انتظاما کئے جارہے ہیں ۔ اس نمائش میں ملک کے مختلف ریاستوں کی اشیاء ( پروڈکٹس ) کے ساتھ تلنگانہ اور آندھرا پردیش ریاستوں کے کئی سرکاری و خانگی اسٹالس لگائے جارہے ہیں ۔ یہ نمائش 15 فروری 46 دن تک جاری رہے گی ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے ہاتھوں سے نمائش کا افتتاح کرنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ نمائش میں تقریبا 2400 اسٹالس لگائے جارہے ہیں ۔ نمائش کی خصوصیات یہ ہے کہ یہاں ایک ہی جگہ پر ہر قسم کی اشیاء عوام کو دستیاب رہے گی ۔ جہاں پر کئی ریاستوں کے پروڈکٹس موجود رہیں گے ۔ جو شہر حیدرآباد میں دستیاب نہیں ہے ۔ مثلا ملبوسات ، بستر ، باورچی خانے کی اشیاء ، خواتین کے لیے کھانا پکانے کے مختلف برتن اور دیگر اشیاء خشک میوہ جات کے ساتھ ساتھ الکٹرانک اشیاء مختلف اقسام کے نئے فرنیچر کے علاوہ دیگر اشیاء بھی دستیاب رہیں گے ۔ نمائش سوسائٹی کے خازن اے راجندر کمار نے بتایا کہ نمائش میں داخلہ فیس 40 روپئے مقرر کی گئی ہے ۔ امید کی جارہی ہے کہ اس مرتبہ 22 لاکھ افراد نمائش کا مشاہدہ کریں گے ۔ عوام کو تمام سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ انہیں مسائل سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔ سی سی کیمروں کے دریعہ نگرانی رکھی جائے گی ۔ نمائش پہونچنے والے عوام کو گوشہ محل و گاندھی بھون کے گیٹس پر میٹل ڈیکٹر سے ہو کر گذرنا پڑے گا ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی نمائش کیلئے پہونچنے والوں کیلئے مختلف ثقافتی پروگرامس کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔ کھیلوں کے مقابلے تفریحی پروگرامس کرائے جائیں گے ۔ عوام کے لیے نمائش میں خوشگوار ماحول کے انتظامات کئے جائیں گے ۔ سکریٹری نمائش سوسائٹی بی ہنمنت راؤ نے کہا کہ نمائش کے انعقاد سے ہونے والی آمدنی سے ریاست کے کئی اضلاع میں تعلیمی جال کو پھیلایا جارہا ہے ۔ خاص طور پر خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ کئی پالی ٹکنیک ، فارمیسی ، انجینئرنگ ، ڈگری ، آئی ٹی آئی کالجس قائم کئے گئے ہیں ۔ نائب صدر نمائش سوسائٹی وی ستیہ ندر نے کہا کہ نمائش کے کامیاب انعقاد اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے اور فوری مسائل کی یکسوئی کے لیے 33 ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ۔۔ 2