Thursday , June 22 2017
Home / اداریہ / عالمی عدالت انصاف

عالمی عدالت انصاف

ایک پل کے رکنے سے دور ہوگئی منزل
صرف ہم نہیں چلتے راستے بھی چلتے ہیں
عالمی عدالت انصاف
عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن جادھو کے کیس کو پیش کرکے ہندوستان کی نریندر مودی حکومت نے غلطی کی ہے یا درست قدم اٹھایا ہے اس کے منفی و مثبت نتائج کا اندازہ آگے چل کر ہوگا۔ ہندوستان نے ماضی میں بھی پانچ مرتبہ اپنا کیس عالمی عدالت کے سامنے رکھا تھا۔ ہیگ کی عدالت میں ہندوستان کے سابق پانچ کیسوں میں 1955 کا پرتگال کے ساتھ ہندوستانی برصغیر کے دو علاقوں پر قبضہ کا تنازعہ چل رہا ہے۔ دادرا جونگر حویلی کے نام سے جانا جاتا تہے۔ پرتگال کے قبضہ میں 1960ء میں عالمی عدالت نے ہندوستان کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ اس کے بعد پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ 1971 میں پاکستان کے طیاروں کی ہندوستانی علاقہ پر سے پرواز کے بارے میں تھا۔ پھر ایک بار 1973 میں ہندوستانی تحویل میں جنگی قیدیوں کی حیثیت سے 195 پاکستانی شہریوں کے خلاف نسل کشی کے الزامات پر ہندوستان کے خلاف پاکستان کی کارروائی سے متعلق تھا۔ تاہم پاکستان نے ڈسمبر 1973 میں اس کیس سے دستبرداری اختیار کرلی تھی اور ہندوستان سے مذاکرات کا حوالہ دے کر معاملہ رفع دفع کردیا گیا تھا۔ 1999ء میں بھی پاکستانی بحری ایرکرافٹ کی جانب سے ہندوستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے کیس کو عالمی عدالت سے رجوع کیا گیا اور یہ کارگل جنگ کے صرف ایک ماہ بعد واقعہ پیش آیا تھا۔ پاکستان نے عالمی عدالت میں ہندوستان کو کھڑا کرکے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان نے اقوام متحدہ کے تحت کئی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان نے غیرمنصفانہ کارروائی کرنے کی پاداش میں ہندوستان سے معاوضہ کا مطالبہ کیا تھا لیکن عالمی عدالت نے اس کیس کو خارج کردیا تھا۔ 2014ء میں مارشل جزائر نے ہندوستان، پاکستان اور برطانیہ کے خلاف عالمی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہوئے ہندوستان پر عالمی قانون کی خلاف ورزی کے الزام عائد کئے تھے۔ اس پر عالمی عدالت نے ہندوستان کی دلیل کی سماعت کے بعد کیس کو میرٹ کی اساس پر برقرار رکھنے سے انکار کردیا تھا۔ اس مرتبہ ہندوستان نے عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاکر کلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر تعمیل کو روکنے میں کامیاب ہوا ہے مگر اس کا یہ اقدام مستقبل میں ایک خراب مثال بن سکتا ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ ہندوستان کے تنازعات اور کشیدگیاں آپسی مسائل ہیں۔ جادھو کا کیس جب عالمی عدالت میں اٹھایا گیا ہے تو اس کے ساتھ مودی حکومت کو ثبوت بھی پیش کرنے پڑیں گے۔ پاکستان کے تعلق سے نفرت پر مبنی پروپگنڈہ کرنے کے منصوبہ کی وجہ سے ہی پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کو دن بہ دن کشیدہ بنایا جارہا ہے۔ مودی حکومت ایجنڈہ اور اس حکومت کا تشہیری میڈیا کلبھوشن جادھو کے کیس کو لیکر جس طرح کی بغلیں بجارہا ہے وہ عالمی عدالت میں آ کر ایک نئے تنازعہ کو جنم دے گا۔ اگر پاکستان نے عالمی دالت میں اپنے فوجی عدالت کے سزائے موت کے حکم کے ثبوت میں کچھ شواہد پیش کرے گا تو پھر ہندوستان کو اس کے جواب میں قدم اٹھانا ضروری ہوگا۔ عالمی عدالت نے صرف کلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر عمل آوری کو روک دیا ہے اس حکم التوا کو ہندوستان کے حق میں فیصلہ متصور کرنے والی مودی حکومت اور اس کا حامی میڈیا پاکستان کے خلاف نفرت کی دیوار کو بلند کرنے میں اندھادھند تبصرے کررہا ہے تو یہ آئندہ کیلئے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔ پاکستان کو یہ ثابت کرنا ہیکہ کلبھوشن جادھو خاطی ہے اور اسے ثبوت بھی پیش کرنا ہوگا اگر ثبوت پیش کرنے میں پاکستان کامیاب ہوتا ہے تو ایسے میں مودی حکومت اور اس کے حامی پروپگنڈہ میڈیا کے موقف کا کیا حشر ہوگا یہ عالمی سطح پر جانزہ کا متقاضی ہوگا جیسا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا سابق جج مرکنڈے کاٹجو نے کہا کہ ہندوستان نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع ہوکر غلطی کی ہے کیونکہ پاکستان کو اس سے ایک مضبوط موقف مل گیا ہے کہ وہ عالمی عدالت سے اپنے دیگر مسائل جیسے علاقائی تنازعات کو رجوع کرے۔ اگر مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت سے رجوع کرنے میں پاکستان کامیاب ہوجائے تو اس وقت مودی حکومت یا ہندوستان کا موقف غور طلب ہوگا۔ پاکستان بحیثیت پڑوسی ملک ہندوستان کی غلطیوں کا اب عالمی فورم سے حصول انصاف کی دہائی دے گا۔ ایسے میں ہندوستان کو ہر تنازعہ کے تعاقب میں اپنی توانائی صرف کرنی پڑے گی۔ جو معاملات باہمی طور پر حل کئے جاسکتے ہیں انہیں دور تک لے جانے کی حماقت کے نتائج پر قیاس آرائیاںکچھ بھی ہوسکتی ہیں۔ مودی حامی میڈیا اور سنگھ پریوار کے نظرات سے پیدا ہونے والی صورتحال بہرحال برصغیر کے حق میں بہتر نہیں ہوگی۔ پاکستان نے بھی جادھو کے کیس میں منصفانہ مقدمہ سے پہلوتہی کرکے ہندوستان کے غصہ کو بڑھاوا دیا ہے اس لئے بین الاقوامی قوانین کی زد میں آ کر وہ خود بھی پھنس گیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT