یوم آزادی ہند
انصاف کی ڈگر پہ بچوں دکھائو چل کےیہ دیش ہے تمہارا نیتا تم ہی ہو کل کےآج ہمارے ملک ہندوستان کا یوم آزادی ہے ۔ آج ہم اپنے عظیم ملک
انصاف کی ڈگر پہ بچوں دکھائو چل کےیہ دیش ہے تمہارا نیتا تم ہی ہو کل کےآج ہمارے ملک ہندوستان کا یوم آزادی ہے ۔ آج ہم اپنے عظیم ملک
کھل نہیں سکتی شکایت کیلئے لیکن زباںہے خزاں کا رنگ بھی وجہہِ قیامِ گلستاںپارلیمنٹ کے مانسون سشن کا اختتام عمل میں آگیا ۔ اس سشن کو پوری طرح سے ضائع
دنیا بھر میںفضائی سفر اب عام ہوتا چلا جارہا ہے ۔ کسی زمانے میں فضائی سفر کو ایک وقار اور شان کی علامت سمجھا جاتا تھا تاہم آج کے مصروف
رخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ کہتے ہیںاُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پراونہ آتا ہےہندوستان کی روایت رہی ہے کہ ملک کی سیاست کسی نہ کسی پہلو
ڈر ہے اس سے جاگے نہ کوئی انقلابایک طوفان کا پلنا بھی جرم ان دنوںکرناٹک کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر ریاستی کانگریس میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ دو سینئر
شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گےیہ دن اگر برے ہیں تو اچھے دن بھی آئے گےتین بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں کی تین اسمبلی نشستوں کیلئے
یہ کب سے تم معلمِ اخلاق بن گئےہم جانتے ہیں خوب ہی اپنا بھلا بُراکسی بھی ملک کیلئے اس کے نوجوان انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ نوجوانوںکے ہاتھوں ہی
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میںہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائناتجنتر منتر احتجاج اور پھر پارلیمنٹ تک مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات
قائد اپوزیشن راہول گاندھی ویسے تو ہر مسئلہ پر آر ایس ایس کی مخالفت اور شدت سے اظہار خیال میں کبھی کوئی عار محسوس نہیںکرتے اور وہ سنگھ کے خلاف
کچھ لوگ سمجھتے ہیں اپنا بھی پرایا ہےدشمن بھی مگر مجھ کو لگتا ہے کہ اپنا ہےجس وقت سے نوجوان اور طلباء ہزاروں کی تعداد میں دہلی کے جنتر منتر
چمن سے رخصتِ فانی قریب ہے شایدکہ اب کے بوئے کفن دامنِ بہار میں ہےمرکزی وزیر تعلیم کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان کے استعفے نے سارے ملک میں طلباء کی
ایک منصف کی طرح جُرم کو پھانسی دیکرتم نے بنیاد جو ڈالی ہے بڑی پیاری ہےدہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کی جانب سے جو احتجاج شروع کیا
ایک دل ہے اور طوفانِ حوادث اے جگرایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میںنیٹ امتحانی پرچوں کے افشاء سے نمٹنے کیلئے مرکز نے کئی تجاویز کو منظوری
کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھےلعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میںدہلی کے جنتر منتر سے شروع ہوا طلباء کا احتجاج قومی سطح کی تحریک میں تبدیل
تیری بساط کیا ہے، یوں اترانا چھوڑدےمانا کہ اپنے شہر میں تو مالدار ہےملک بھر میں طلباء برادری میں جو بے چینی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ شائد حکومت
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیںدارالحکومت دہلی میںکاکروچ جنتا پارٹی کا پارلیمنٹ مارچ توقع سے زیادہ کامیاب رہا ۔
ایک سلطنت تباہ ہوئی بات بات میںدونوں طرف سے جو ہوا اچھا نہیں ہواوزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کے مطالبہ اور شعبہ تعلیم میں اصلاحات و بہتری کے مطالبہ
غرض کہ کاٹ دیئے زندگی کے دن اے دوستوہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میںملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے ایک اہم رولنگ کے ذریعہ
اگر بخشے زہے رحمت نہ بخشے تو شکایت کیاسرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئےبرطانیہ میں آئندہ ہفتے نئے وزیر اعظم کا تقرر عمل میں آئے گا ۔
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھےبے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھےدارالحکومت دہلی کے جنترمنتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج چل رہا ہے