اداریہ

گریٹر نوئیڈااجتماعی عصمت ریزی واقعہ

رہائی ہو نہیں سکتی کبھی قید تعلق سےجو اک زنجیر ٹوٹی دوسری زنجیر دیکھیں گےقومی دارالحکومت دہلی سے متصل گریٹر نوئیڈا میں ایک 16 سالہ لڑکی کی چلتی ہوئی بس

اعتماد شکنی نہیں ‘ اعتماد بحالی ضروری

شبِ سیاہ میں گم ہوگئی ہے راہِ حیاتقدم سنبھل کے اٹھاؤ بہت اندھیرا ہےجن نوجوانوں کے ساتھ حکومت نے سنسد مارچ کے بعدبات چیت کرتے ہوئے کچھ تیقنات دئے تھے

بی جے پی ‘ راہول گاندھی سے پریشان

یہ جتنے مسئلے ہیں مشغلے ہیں سب فراغت کےنہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیںملک کے قائدا پوزیشن راہول گاندھی حالیہ عرصہ میں جس طرح سے عوامی

خواتین کو آواز دینے کی کوشش

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگاس کے سازسے ہے زندگی کا سوز دروںقائد اپوزیشن و کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے مہاراشٹرا کے پونے میں چھاترو ں کی گونج

عوامی مسائل اور حکومت کی ترجیحات

اس کی مجبوری کو کچھ وجہ یقینا ہوگیوہ جو وعدہ سے مکرتا ہے مکر جانے دےہمارے ملک ہندوستان میں آج کئی مسائل درپیش ہیں۔ سماج کے تقریبا تمام ہی طبقات

ریزرویشن ہٹاؤ آندولن

ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہےہاں غور سے سننا یہ صدی بول رہی ہےکاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے نیٹ پیپر لیک مسئلہ پر کئے گئے احتجاج کے بعد

نوجوانوں تک رسائی کی مساعی

اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دلفریب اس کی نگہہ دل نوازجس وقت سے ملک میں نوجوانوں میں شعور بیدار ہوا ہے اور وہ اپنے حقوق

طلباء کے مطالبات اور حکومتیں

جذبۂ شوق کدھر کو لئے جاتا ہے مجھےپردۂ راز سے کیا تم نے پکارا ہے مجھےدارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کے بیانر تلے ہوئے احتجاج اور

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

اگر زندگی کا کوئی اشارہ چاہیئےڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہیئےیہ ایک کہا وت ہے کہ ’ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ‘ اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی

دماغی نکسل ‘ مخالفین نشانہ پر

صبح کے تخت نشیں شام کو ملزم ٹھہرےہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھاہندوستان میں سیاسی مخالفت کو اب ذاتی دشمنی کی سطح تک پہونچا دیا گیا ہے

یوم آزادی ہند

انصاف کی ڈگر پہ بچوں دکھائو چل کےیہ دیش ہے تمہارا نیتا تم ہی ہو کل کےآج ہمارے ملک ہندوستان کا یوم آزادی ہے ۔ آج ہم اپنے عظیم ملک

پارلیمنٹ مانسون سشن

کھل نہیں سکتی شکایت کیلئے لیکن زباںہے خزاں کا رنگ بھی وجہہِ قیامِ گلستاںپارلیمنٹ کے مانسون سشن کا اختتام عمل میں آگیا ۔ اس سشن کو پوری طرح سے ضائع

پائلٹس کیلئے سخت قواعد ضروری

دنیا بھر میںفضائی سفر اب عام ہوتا چلا جارہا ہے ۔ کسی زمانے میں فضائی سفر کو ایک وقار اور شان کی علامت سمجھا جاتا تھا تاہم آج کے مصروف

نوجوانوں کے گرد گھومتی سیاست

رخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ کہتے ہیںاُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پراونہ آتا ہےہندوستان کی روایت رہی ہے کہ ملک کی سیاست کسی نہ کسی پہلو

کرناٹک کانگریس میں اختلافات

ڈر ہے اس سے جاگے نہ کوئی انقلابایک طوفان کا پلنا بھی جرم ان دنوںکرناٹک کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر ریاستی کانگریس میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ دو سینئر

وزیر اعظم اور ملک کا نوجوان طبقہ

یہ کب سے تم معلمِ اخلاق بن گئےہم جانتے ہیں خوب ہی اپنا بھلا بُراکسی بھی ملک کیلئے اس کے نوجوان انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ نوجوانوںکے ہاتھوں ہی

آنکھ مچولی کا کھیل کیوں ؟

ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میںہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائناتجنتر منتر احتجاج اور پھر پارلیمنٹ تک مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات