آندھرا پردیش میں 81.86 فیصد ریکارڈ پولنگ: مکیش کمار مینا

   

تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی،ایک پولنگ اسٹیشن پر رات 2 بجے تک رائے دہی
حیدرآباد۔/15 مئی، ( سیاست نیوز) لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں آندھرا پردیش کے رائے دہندوں نے غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر آندھرا پردیش مکیش کمار مینا کے مطابق آندھرا پردیش میں مجموعی طور پر 81.86 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ ای وی ایم مشینوں کے ذریعہ 80.66 فیصد رائے دہی ہوئی جبکہ 1.2 فیصد رائے دہی پوسٹل بیالٹ کے ذریعہ ہوئی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مکیش کمار مینا نے کہاکہ 3500 پولنگ مراکز پر شام 6 بجے کے بعد بھی رائے دہی کا عمل جاری رہا۔ ایک پولنگ اسٹیشن پر رات 2 بجے رائے دہی مکمل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے نتیجہ میں بعض مقامات پر رائے دہی کے آغاز میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ انتخابات کے مقابلہ رائے دہی 2.09 فیصد زائد ریکارڈ کی گئی۔ 2014 میں 78.41 اور 2019 میں 79.77 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ درشی اسمبلی حلقہ میں سب سے زیادہ 90.91 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی جبکہ تروپتی اسمبلی حلقہ میں سب سے کم 63.32 فیصد رائے دہی ہوئی۔ لوک سبھا حلقوں میں حلقہ اونگول میں 87.06 فیصد رائے دہی ہوئی جبکہ سب سے کم رائے دہی حلقہ وشاکھاپٹنم میں 71.11 فیصد درج کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم مشینوں کی حفاظت کیلئے 350 اسٹرانگ رومس قائم کئے گئے ہیں اور تین مراحل پر مبنی سیکوریٹی انتظامات ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے کہا کہ رائے دہی کے موقع پر اور اس کے بعد تشدد کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے کارکنوں نے کئی مقامات پر پُرتشدد کارروائیاں انجام دی اور الیکشن عہدیداروں کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ڈائرکٹر جنرل پولیس کو کارروائی کی ہدایت دی ہے ۔ تشدد سے متاثرہ چار علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے اور زائد پولیس فورس تعینات کی گئی۔ مکیش کمار مینا نے کہا کہ ای وی ایم مشینوں کو نقصان پہنچانے والے افراد کو گرفتار کرنے پولیس کو ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائے شماری تک چوکسی برقرار رہے گی۔1