Friday , December 6 2019

اتحاد میں ایس پی پر پھر بھاری پڑی بی ایس پی۔

Samajwadi Party National President Akhilesh Yadav greeting to Bahujan Samaj Party Supreemo Mayawati on the occassion of her 63rd Birthday in Lucknow on Tuesday.Express photo by Vishal Srivastav 15.01.2019

لکھنو۔اترپردیش کے بعد ایس پی اور بی ایس پی اتحاد نے اپوزیشن کے عظیم اتحاد کو ایک اور جھٹکا دیاہے۔ یوپی کے بعد مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ میں بھی دونوں پارٹیاں ایک ساتھ الیکشن لڑیں گی۔ایس پی صدر اکھیلیش یادو اور بی ایس پی صدر مایاوتی نے اس کا اعلان کردیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں لوک سبھا کی تین سیٹوں پر ایس پی اور 26سیٹوں پر بی ایس پی الیکشن لڑے گی ۔ وہیں اتراکھنڈ میں ایس پی کو ایک جبکہ بی ایس پی کے کھاتے میں چار سیٹیں ائی ہیں۔دونوں ہی پارٹیوں نے ان ریاستوں میں بننے والے اتحاد سے کانگریس پارٹی کو دورکھا ہے۔

بہار میں مایاوتی نے تمام چالیس سیٹوں پر تنہا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ دونوں پارٹیوں نے سیٹیں بھی طئے کرلی ہیں۔ سیٹوں کی تقسیم کی مناسبت سے ایس پی پر بی ایس پی بھاری ثابت ہوئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں ایس پی کو بال گھاٹ‘ تکم گڑ اور کھاجوراؤ کی سیٹیں دی گئی ہیں۔

دونوں کے درمیان اتحاد کا اعلان پہلے ہی ہوچکا ہے۔ اس میں بی ایس پی کو 38اور ایس پی کو37سیٹیں ملی ہیں۔بی ایس پی ملک بھر میں غیر بی جے پی اور غیر کانگریس جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی مسلسل کوشش کررہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس قسم کے اتحاد کے ساتھ ہی اس میں وہ مسلسل اپنا قد بڑا کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔یو پی کے ساتھ ایم پی‘ اتراکھنڈ میں اتحاد اسی حکمت عملی کا حصہ مانا جارہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT