لکھنؤ، 19 مئی (یو این آئی) اتر پردیش سمیت پورے شمالی ہندوستان میں شدید گرمی اور لو کے تھپیڑوں نے معمولات زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے ۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی پیش گوئی میں اگلے سات دنوں تک ریاست کے بیشتر حصوں میں لو سے شدید لو چلنے کی وارننگ جاری کی ہے ۔ راجدھانی لکھنؤ سمیت پوروانچل اور بندیل کھنڈ کے اضلاع میں دن کا درجہ حرارت 44 سے 46 ڈگری سیلسیس کے درمیان پہنچ گیا ہے ، جبکہ رات میں بھی گرم ہواؤں کی وجہ سے لوگوں کو راحت نہیں مل رہی ہے ۔ بلیا سے غازی آباد تک صبح نو بجے سے ہی گرم ہوا کے تھپیڑوں سے لوگ بے حال نظر آئے جبکہ 11 بجتے بجتے سڑکوں پر سناٹا چھانے لگا۔ گرمی اور لو کا اثر اس حد تک دیکھا جا رہا ہے کہ پارک، مال، بازار اور چڑیا گھر عام طور پر ویران نظر آ رہے ہیں۔ شدید گرمی کے درمیان بجلی کی مانگ پوری کرتے ہوئے ٹرانسفارمر بھی بے بس نظر آرہے ہیں۔
جس کی وجہ سے بجلی کی آنکھ مچولی عام ہو چکی ہے ۔ ریاست کے بیشتر اضلاع میں آٹھویں کلاس تک کے اسکولوں میں گرمی کی چھٹیاں کر دی گئی ہیں۔
موسم کے سخت تیوروں کے درمیان سرکاری اور خانگی اسپتالوں کی او پی ڈی میں بھیڑ بڑھ گئی ہے ۔ ڈاکٹروں نے لوگوں کو وافر مقدار میں مشروبات کا استعمال کرنے اور صبح 11 بجے سے شام چار بجے تک باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے ۔ دل کے مریضوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر کے مشورے سے لی گئی دوا کا باقاعدگی سے استعمال کریں اور ناگزیر حالات میں میڈیکل اسٹور کا رخ کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ لے کر ہی دواؤں کا استعمال کریں۔