جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے خارج کرنے پر کانگریس برہم،جمہوریت میں فیصلے کون کرتا ہے ؟
نئی دہلی، 12 اکتوبر (آئی اے این ایس) جنتر منترکو احتجاج کے لیے مقررہ مقام کی فہرست سے خارج کیے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے پیرکو حکومت کے فیصلے پر سخت ناراضگی ظاہرکی۔ انہوں نے اسے من مانا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ احتجاج کہاں کیا جائے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ حکومت احتجاج کی جگہ تبدیل کرسکتی ہے، لیکن عوام کے غصے کو کم نہیں کرسکتی۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے تمام رہنما اجتماعی طور پر بارکھمبا روڈ جارہے ہیں تاکہ سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت پیش کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بوٹ کلب احتجاج اور مظاہروں کا اہم مقام رہا ہے، جہاں لوگ جمع ہوتے تھے۔ حکومت احتجاج کے لیے مقررہ مقامات تبدیل کرسکتی ہے، لیکن عوام کی ناراضگی کم نہیں کرسکتی۔آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے سوال کیا کہ اس فیصلے کے پیچھے کون ہے اور جمہوریت میں یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ احتجاج کب شروع ہوگا، کب ختم ہوگا اور لوگ کہاں جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی پوری سرزمین عوام کے لیے ناانصافی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے آزاد ہے اور آئین نے انہیں یہ حق دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ پورے ملک میں برقرار ہے اور یہ مطالبہ پورا ہوکر رہے گا۔کانگریس رہنما سندیپ دکشت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کو احتجاج کے لیے ملک سے باہر کوئی مقام تلاش کرلینا چاہیے، کیونکہ اس کے رویے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے احتجاج کرنے والے ہندوستان کے شہری ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش یا چین جیسے ممالک میں احتجاج کرنے کی تجویز دیتے ہوئے حکومت کے فیصلے پر تنقید کی۔ہریانہ اسمبلی میںاپوزیشن اور کانگریس رہنما بھوپیندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے خارج کرنا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت خوف زدہ ہے اور عوام کی آواز دبانا چاہتی ہے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے طنزیہ طور پر کہا کہ اب وہ ہمالیہ کی چوٹی پر احتجاج کریں گے۔