محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ عہدیدار خود نظامیہ کی عمارت اور ملکیت پر سوال کرنے لگے ہیں ۔ رائے درگ میں ہراج کے منصوبہ پر خاموشی
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد 6 اگسٹ: محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ عہدیدارجامعہ نظامیہ کے ارباب کو اپنی جائیداد پر دعویٰ پیش کرنے سے روک رہے ہیں!ذرائع کے مطابق جامعہ نظامیہ کے تحت موقوفہ جائیداد کی تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ذریعہ ہراج کے معاملہ کے منظر عام پر آنے کے باوجود ’جامعہ نظامیہ ‘ ارباب کی خاموشی دراصل محکمہ اقلیتی بہبود سے جامعہ نظامیہ کے ذمہ داروں پر ڈالے جارہے دباؤ کا نتیجہ ہے ۔بتایا گیا کہ جامعہ نظامیہ کے تحت 510ایکڑ 35 گنٹہ رائے درگ میں موقوفہ اراضی کے سابق میں ہراج اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو متبادل اراضی کی فراہمی کے بعد اب دوبارہ 11 ایکڑ اراضی کے ہراج کا منصوبہ منظرعام پر آنے کے باوجود ارباب جامعہ نظامیہ کی خاموشی پر سوالات کے دوران تحقیق پر انکشاف ہوا کہ محکمہ اقلیتی بہبود وقف بورڈ عہدیداروں کے ذریعہ ’جامعہ نظامیہ ‘ذمہ داروں سے ایسے سوالات کر رہا ہے جن کے جواب ’ارباب‘ جامعہ کے پاس نہ ہونے کے سبب ذمہ داران جامعہ نظامیہ انتہائی قیمتی لاکھوں کروڑ کی اراضی کی تباہی پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں حالانکہ دیگر مذہبی و ملی تنظیموں کے ذمہ داروں سے حکومت پر دباؤ ڈال کر موقوفہ اراضی کے ’ہراج‘ کو روکنے کا مطالبہ کیاجارہا ہے۔ذرائع کے مطابق وقف بورڈ عہدیداروں نے محکمہ اقلیتی بہبود کی ہدایت پر ’جامعہ نظامیہ‘ کی عمارت اور ملکیت کے موقف اور ’وقف ‘ نہ کروائے جانے سے متعلق استفسار کرکے انہیںیہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ جامعہ نظامیہ کی موجودہ عمارت جس میں بانیٔ جامعہ نظامیہ فضیلت جنگ حضرت مولانا انواراللہ فاروقی ؒ کا مزار اور مسجد ہونے کے باوجود شبلی گنج کے احاطہ کو وقف میں درج نہ کروائے جانے پر ’نظامیہ‘ کے ارباب سے ہی تحقیق کی جاسکتی اسی لئے ان کا خاموش رہنا بہتر ہے۔ بتایاجاتاہے کہ سرکاری عہدیداروں نے ’جامعہ نظامیہ‘ کو ہبہ کردہ جائیدادوں کی تفصیلات اکٹھا کرنے اور ان کو وقف بورڈ میں درج نہ کروانے کی بھی تحقیقات کا آغاز کرکے بالواسطہ خوف پیدا کرنے کی کوشش شروع کردی ہے جس کے نتیجہ میں رائے درگ میں لاکھوں کروڑ کی اراضی پر دعوے سے متعلق خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔وقف بورڈ کے اعلی عہدیدار نے جامعہ نظامیہ کے ذمہ داروں سے استفسار کیا کہ UMEED پورٹل پر جامعہ نظامیہ کی عمارت و جائیداد کا اندراج کیوں نہیں کروایا گیا جبکہ مذکورہ جائیداد بھی درگاہ حضرت بانیٔ جامعہ فضیلت جنگ بہادر مولانا انواراللہ فاروقیؒ اور مسجد کی موجودگی کے باعث ’وقف بائی یوزر‘ زمرہ میں ریکارڈ کی جانی چاہئے تھی۔ وقف بورڈ و محکمہ اقلیتی بہبود کے سوالات کے سبب ’ارباب جامعہ نظامیہ ‘ اپنی 510ایکڑ اراضی کے معاملہ میں مکمل خاموش ہیں۔تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی CRP No.3206/2023 میں کسی بھی طرح کی پیشرفت نہیں ہوپائی ہے اور نہ 29 ڈسمبر 2023 کے بعد سے مقدمہ میں کوئی پیشرفت ہوئی حالانکہ سیکریٹری جامعہ نظامیہ جناب سید احمد علی نے یہ مقدمہ دائر کرکے وقف ٹریبونل نے جو احکام جاری کئے ہیں انہیں کالعدم قرار دینے کی خواہش کی تھی۔OS.No 196/2016 میں تلنگانہ وقف ٹریبونل نے جو احکامات جاری کئے تھے ان کو چیالنج کرکے ہائی کورٹ میں اس درخواست کی مناسب پیروی نہ کئے جانے کے معاملہ میں بھی متعدد قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں اور اب جبکہ TGIIC نے باضابطہ ہراج کیلئے اعلامیہ جاری کیا ہے اس کے باوجود جامعہ نظامیہ کو خاموش کرنے اقدامات کے دعوؤں سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاست میں انتہائی قیمتی موقوفہ اراضیات کی فروخت اور خانگی کمپنیوں کو حوالگی کے خلاف قانونی جنگ یا احتجاج کی بھی گنجائش ختم کی جانے لگی ہے۔