ٹی ایس میسا کے ریاستی صدر فاروق احمد کاچیف منسٹر سے مطالبہ
حیدرآباد۔یکم۔ اگسٹ (راست) تلنگانہ اسٹیٹ مائنارٹی ایمپلائز سرویس اسوسی ایشن TSMESA کے ریاستی صدر ڈاکٹر ایم اے فاروق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست کے اردو آبادی والے علاقوں میں اردو ذریعۂ تعلیم کے آنگن واڑی مراکز کو منظوری دیتے ہوئے ان کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے چیف منسٹر تلنگانہ جناب اے ریونت ریڈی سے اپیل کی کہ اس تجویز کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کو ان کی مادری زبان میں معیاری ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔ ڈاکٹر ایم اے فاروق نے کہا کہ تلنگانہ میں مربوط اطفال ترقیاتی خدمات پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 35,700 آنگن واڑی مراکز کام کررہے ہیں جن میں 31,711 مین آنگن واڑی مراکز اور 3,989 منی آنگن واڑی مراکز شامل ہیں تاہم اقلیتی آبادی والے علاقوں میں اردو میڈیم آنگن واڑی مراکز بہت کم تعداد میں ہیں۔جس کی کمی طویل عرصہ سے محسوس کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کو تلنگانہ میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اس پس منظر میں اردو میڈیم آنگن واڑی مراکز کا قیام نہ صرف ایک اہم تعلیمی ضرورت کی تکمیل کرے گا بلکہ ریاست کی لسانی پالیسی، مساوی مواقع اور سماجی انصاف کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہوگا۔ ڈاکٹر ایم اے فاروق نے حکومت پر زور دیا کہ اقلیتی آبادی والے علاقوں کی نشان دہی کرتے ہوئے وہاں اردو میڈیم آنگن واڑی مراکز کی منظوری اور قیام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ ہر بچے کو اپنی مادری زبان میں معیاری ابتدائی تعلیم تک رسائی حاصل ہونی چاہئے۔