ارکان اسمبلی اور کونسل کے اسٹیکرس کی گاڑیاں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث

,

   

سخت گیر اقدامات کیلئے حکومت کا فیصلہ، اسٹیکرس کی تعداد 5 سے گھٹاکر 3 کرنے کی تجویز، عنقریب اسپیکر اور صدر نشین کونسل کا اجلاس
حیدرآباد۔ 31 جولائی (سیاست نیوز) غیر قانونی سرگرمیوں میں ضبط کی جانے والی گاڑیوں پر ارکان اسمبلی و کونسل کے اسٹیکرس نے حکومت کو الجھن میں مبتلا کردیا ہے۔ حالیہ عرصہ میں مجرمانہ سرگرمیوں کے دوران بعض ایسی گاڑیاں ضبط کی گئیں جن پر ارکان اسمبلی اور کونسل کے اسٹیکر پائے گئے۔ حکومت نے سرکاری اسٹیکرس کے غلط استعمال کو روکنے کی تیاری کرلی ہے۔ صدر نشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے بتایا کہ ارکان اسمبلی اور کونسل کے اسٹیکرس کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اسپیکر اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی کے ساتھ اجلاس میں رہنمایانہ خطوط وضع کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیکرس کے غلط استعمال کے نتیجہ میں قانون ساز اداروں کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت ارکان اسمبلی اور کونسل کو جاری کئے جانے والے اسٹیکرس کی تعداد میں کمی پر غور کررہی ہے۔ اگر کسی غیر متعلقہ شخص کی گاڑی پر یا پھر جرائم میں ملوث گاڑی پر اسٹیکر پایا گیا تو اس کے لئے متعلقہ رکن اسمبلی اور کونسل کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپیکر اسمبلی اور صدر نشین قانون ساز کونسل اس مسئلہ پر چیف منسٹر اور اپوزیشن قائدین سے مشاورت کے بعد اسٹیکرس کے غلط استعمال کو روکنے سے متعلق فیصلے کریں گے۔ نئی دہلی میں اسٹیکرس کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے پارلیمنٹ کی جانب سے ارکان کو گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ تلنگانہ میں فی الوقت ہر رکن اسمبلی اور رکن کونسل کو 5 اسٹیکر جاری کئے جاتے ہیں جو ارکان کے علاوہ ان کے قریبی رشتہ داروں کی گاڑیوں پر لگائے جاتے ہیں۔ حیدرآباد میں رکن اسمبلی اور کونسل کے اسٹیکر کے ساتھ کئی گاڑیاں دکھائی دیتی ہیں ان میں سے کئی اسٹیکر قدیم تاریخوں کے ہوتے ہیں لیکن پولیس اسٹیکر دیکھ کر گاڑی روکنے سے گریز کرتی ہیں۔ اسٹیکر کے غلط استعمال کو روکنے تعداد کو 5 سے گھٹاکر 3 کرنے کی تجویز ہے۔ اسٹیکر پر رکن اسمبلی کا نام اور گاڑی کا نمبر درج کیا جائے گا تاکہ کسی اور گاڑی پر چسپاں نہ کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جرائم میں اسٹیکر لگی ہوئی گاڑیوں کے استعمال پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ملزم کی گاڑی پر اسٹیکر پایا گیا جو وزیر لیبر ملاریڈی کی گاڑی کو جاری کیا گیا تھا۔ ریاستی وزیر کا کہنا ہے کہ ملزم نے پرانا اسٹیکر استعمال کیا ہے۔ تاہم عہدیدار اس بات کی جانچ کررہے ہیں کہ وزیر کی گاڑی کا پاس کس طرح ایک غیر متعلقہ شخص تک پہنچ گیا۔ ر