اسرائیلی حملے کا مقصد احمدی نژاد کو آزاد کرانا تھا، امریکی اخبار کا دعویٰ

,

   

واشنگٹن، 20 مئی (یو این آئی) امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز” نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی رہائش گاہ پر جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہونے والی اسرائیلی کارروائی کا مقصد انہیں نظر بندی سے آزاد کرانا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ایک مبینہ امریکی-اسرائیلی منصوبے کا حصہ تھی، جس کے تحت ایران میں حکومت کی تبدیلی اور احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے دوران احمدی نژاد کے محافظوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ انہیں آزاد کرایا جا سکے ۔ امریکی حکام کے مطابق منصوبہ اس وقت ناکام ہو گیا جب حملے میں محمود احمدی نژاد زخمی ہو گئے ، جبکہ ان کی موجودہ صورتحال اور مقام کے بارے میں اب تک کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے احمدی نژاد پر مغربی ممالک کے ساتھ تعاون اور اسرائیل کے لیے جاسوسی جیسے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مبینہ طور پر انہیں کس طریقے سے بھرتی کیا گیا تھا۔ادھر محمود احمدی نژاد کی جماعت نے مارچ کے آغاز میں ان خبروں کی تردید کی تھی جن میں ان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔