7 کانگریس کا ہدف ہیٹ ٹرک ، سکندرآباد کنٹونمنٹ ، جوبلی ہلز ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد حوصلے بلند
7 بی آر ایس اپنا قبضہ برقرار رکھنے کیلئے پر عزم، بی جے پی کی بھگوا پرچم لہرانے کی دوڑ دھوپ ، سہ رخی مقابلہ متوقع
حیدرآباد۔29۔ ستمبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے دل کہلائے جانے والے اہم اور با اثر اسمبلی حلقہ خیریت آباد میں ضمنی انتخاب ناگزیر ہونے کے بعد تمام اہم سیاسی جماعتیں حرکت میں آگئی ہیں ۔ 2023 کے عام انتخابات میں بی آر ایس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے ڈی ناگیندر نے بعد میں کانگریس کا پرچم تھام لیا تھا جس پر پارٹی انحراف قانون کے تحت ان کی اسمبلی رکنیت نااہل قرار دی گئی ۔اس فیصلہ کے ساتھ ہی خیریت آباد کی نشست خالی ہوگئی ہے ۔ کانگریس ، بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ایک دلچسپ و سخت سہ رخی مقابلہ کی بساط بچھ چکی ہے ۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد کانگریس پارٹی پہلے ہی سکندرآباد کنٹونمنٹ اور جوبلی ہلز کے ضمنی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرچکی ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی خیریت آباد فتح کر کے ضمنی انتخابات کی ’’ ہیٹ ٹرک ‘’ مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہیں تاکہ بی آر ایس (گلابی کیمپ) کو بڑا سیاسی پیغام دیا جاسکے ۔ ڈی ناگیندر کا کانگریس ٹکٹ پر میدان میں اترنا تقریباً طئے ہے ۔ ان کا موقف ہے کہ پار ٹی کی تبدیلی کا ان کی عام مقبولیت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور کانگریس حکومت کے فلاحی و ترقیاتی کاموں کی بدولت وہ ایک بار پھر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے ۔ بی آر ایس اپنی اس نشست کو کسی بھی قیمت پر ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی۔ نااہلی کا فیصلہ آتے ہی بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ایراویلی فارم ہاؤز پہنچ کر پارٹی سربراہ کے سی آر سے ملاقات کی اور ضمنی انتخاب کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ۔ سابق وزیر ٹی سرینواس یادو کے فرزند ٹی سائی کرن کے علاوہ دوسرے قائدین ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ہیں ۔ سکندرآباد سے لوک سبھا الیکشن لڑنے والے سائی کرن کا نام فی الوقت سب سے آگے ہے ۔ یادو برادری سے تعلق اور مضبوط مالی پس منظر ان کے حق میں جارہا ہے ۔ ٹی سرینواس یادو نے پا رٹی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ بیٹے کو ٹکٹ ملنے پر وہ خود پوری انتخابی مہم سنبھال کر فتح یقینی بنائیں گے جس پر پارٹی قیادت کی جانب سے بھی مثبت اشارے ملے ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد 2014 کے پہلے الیکشن میں بی جے پی کے سی رامچندرا ریڈی نے یہاں سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم وہ 2018 اور 2023 میں ناکام رہے۔ اس بار بی جے پی ایک بار پھر بھگوا پرچم لہرانے کی کوشش میں ہے ۔ پارٹی میں رامچندرا ریڈی کے نام پر غور کیا جارہا ہے ۔ ان کے علاوہ ایڈوکیٹ اندرا سینا ریڈی ، صنعت کار جے کیرتی ریڈی اور سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کے پوتے این وی سبھاش بھی ٹکٹ حاصل کرنے میں اپنی دلچسپی دکھارہے ہیں۔ خیریت آباد اسمبلی حلقہ کا شمار شہر کے مرکز میں ہوتا ہے، جس میں بنجارہ ہلز ، جوبلی ہلز ، سوماجی گوڑہ ، پنجہ گٹہ ، لکڑی کا پل اور خیریت آباد جیسے اہم اور پوش علاقے شامل ہیں۔ 2023 کے انتخابات کے وقت حلقہ میں 2,89,558 لاکھ ووٹرس درج تھے ۔ تاہم الیکشن کمیشن کی SIR کے تحت تقریباً ایک لاکھ ووٹرس کو نوٹس دی گئی ہے ۔ اسمبلی حلقہ خیریت آباد میں بنجارہ ہلز اور جوبلی ہلز جیسی امیر ترین کالونیوں کے ساتھ ساتھ اوسط اور غریب طبقات کے 50 سے زائد سلم بستیاں موجود ہیں، جن میں چنتل بستی ، ایم ایس مقطعہ ، بی ایس مقطعہ ، دیورا کنڈا بستی ، زہرہ نگر ، امبیڈکر نگر روڈ اور دین دیال نگر شامل ہیں۔ سلم علاقوں کے رائے دہندے ہی ہر الیکشن میں ایم ایل اے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے خیریت آباد میں عوام کے ساتھ براہ راست جڑے رہنے والے ’’ماس لیڈر ‘‘ کی جیت کے امکانات ہمیشہ زیادہ رہتے ہیں۔2/k