گجراتی چینل کے نیوز روم میں خاتون اینکرس کو ترشول تقسیم کئے گئے

,

   

اینکرس نے ترشول قبول کئے اور گلے کاٹنے جیسا اشارہ کیا ۔ چینل کے سی ای او کی جانب سے اقدام کی مدافعت
احمد آباد 28 ستمبر ( ایجنسیز ) ویسے تو ملک میں بیشتر میڈیا اداروں کی جانب سے ہندو ۔ مسلم منافرت بھڑکانے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں تاہم اب میڈیا اداروں میں بھی ترشول بانٹے جا رہے ہیں اور ترشول قبول کرنے والی خاتون اینکرس ان ترشولس کی مدد سے گلے کاٹنے جیسے اشارے بھی کر رہی ہیں جس سے ملک میں میڈیا کی غیرجانبداری پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ یہ واقعہ گجرات کے ایک مقامی چینل کا ہے جہاں وشوا ہندو پریشد کی جانب سے خاتون اینکرس میں ترشول کی تقسیم عمل میں لائی گئی اور یہ اینکرس ترشول قبول کرنے کے بعد گلے کاٹنے جیسا اشارہ کر رہی تھیں۔ سوشیل میڈیا پر پردیش 24 گجراتی چینل کے اکاؤنٹ کے ذریعہ دکھایا گیا کہ وی ایچ پی لیڈر جوالت مہتا نے چینل کے نیوز روم کا دورہ کیا اور خاتون اینکرس میں ترشول تقسیم کئے ۔ کہا گیا ہے کہ وی ایچ پی کے ترشول دیکشا پراجیکٹ کے تحت یہ تقسیم عمل میں لائی گئی ۔ اس بات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایک میڈیا چینل پر متنازعہ مواد کو پیش کیا گیا اور پس منظر میں مذہبی موسیقی چلائی گئی اور اس میں کوئی قباحت بھی محسوس نہیں کی گئی ۔ اس دوران چینل کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر و ایڈیٹر ان چیف راہول سنگھ نے ترشول تقسیم کے مسئلہ کی مدافعت کی اور کہا کہ یہ در اصل حملوں کا نشانہ بننے والی خاتون صحافیوں سے اظہار یگانگت کا طریقہ ہے ۔ انہوں نے ایک خاتون صحافی پیا گڈھوی کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس کو ایک خود ساختہ بھگوان اور قتل کے ملزم رامپال سے حملے کا نشانہ بننا پڑا تھا ۔ اسے فون پر دھمکیاں دی گئی تھیں اور ناشائستہ رویہ جھیلنا پڑا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں خواتین کے وقار پر کوئی سمجھتہ نہیں کیا جاسکتا ۔ گجراتی خواتین جانتی ہیں کہ انہیں اپنے لئے کس طرح کھڑے ہونا ہے اور ہمارا نیوز روم دھمکیوں ‘ سائبر تنقیدوں وغیرہ کے خلاف ان خواتین کے ساتھ کھڑا ہے ۔