ایم ایل سی کے بعد کیا اب ایم ایل اے کی باری ہے ؟

   

رکن اسمبلی کی آڈیو کلپس اور کچھ تصاویر سوشیل میڈیا پر گشت کرنے لگیں۔ رکن اسمبلی کا کسی رد عمل سے گریز

حیدرآباد 27 ستمبر (سیاست نیوز) رکن قانون ساز کونسل کے بعد رکن اسمبلی کو پارٹی سے خارج کیا جائیگا ! مجلس اتحاد المسلمین کے رکن کونسل مرزا رحمت بیگ کو ان کے غیر اخلاقی ویڈیو اور تصاویر کے منظر عام پر آنے سے قبل کاروائی کرکے پارٹی سے خارج کرکے مستعفی ہونے کی ہدایت دی گئی تھی اور ابھی رحمت بیگ نے اپنی رکنیت سے استعفیٰ تو نہیں دیا لیکن جماعت کے ہی ایک رکن اسمبلی کی آڈیو کلپس کے علاوہ بعض تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر گشت کرنے لگی ہیں ۔مرزا رحمت بیگ نے ابتداء میں ان کی ویڈیو اور تصاویر کو AI کے ذریعہ تیار کردہ مواد قرار دے کر انہیں ’بلیک میل ‘ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس سلسلہ میں انہوں نے سائبر کرائم سے رجوع ہوکر ان ویڈیو اور تصاویر کے متعلق تحریری شکایت بھی درج کروائی تھی لیکن رکن کونسل کی اس شکایات پر کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل ’جماعت‘ سے انہیں خارج کردیا گیا اور کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی ہدایت دی گئی لیکن وہ اب تک مستعفی نہیں ہوئے ۔ اب ایک رکن اسمبلی کے آڈیو کلپس اور تصاویر سوشل میڈیا پر گشت کرنے لگے ہیں لیکن رکن اسمبلی کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان آڈیو کلپس یا تصاویرکو AI سے تیار کرنے کا دعویٰ کرکے کوئی شکایت کروائی گئی۔ بتایا گیا کہ رکن اسمبلی کی عیاشی و ذہنی عیاشی سے متعلق ان آڈیوکلپس اور تصاویر کا معاملہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے بلکہ 2020 بہار اسمبلی انتخابات سے قبل کا ہے اور سابق میں جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والی خاتون نے رکن اسمبلی پر انتہائی بے ہودہ الزامات عائد کئے تھے لیکن معاملہ کو رفع دفع کردیا گیا تھا اور اب دوبارہ اس مسئلہ کو عوام کے درمیان لائے جانے پر کہا جارہاہے کہ پارٹی سے خارج رکن کونسل رحمت بیگ نے ان آڈیو کلپس اور تصاویر کو منظرعام پر لانا شروع کیا ہے اور متاثرہ خاتون سے ’جماعت‘ کے مخالفین کو رابطہ کروانے میں کلیدی کردار اداکررہے ہیں ۔رکن اسمبلی کی عیاشی کے سلسلہ میں سوشل میڈیا کے ذریعہ انکشافات سے متعلق جماعت کے ذمہ داروں ودیگر اراکین اسمبلی میں بھی یہ چہ میگوئیاں شروع ہوچکی ہیں کہ آیا جماعت رکن اسمبلی کے خلاف بھی ایسی کوئی کاروائی کرکے انہیں ’جماعت‘ سے خارج کرنے کی ہدایت ملتی ہے یا نہیں! اطلاعات کے مطابق رکن اسمبلی اس مواد کو AI سے تیار کردہ مواد قرار دینے سے گریز کر رہے ہیں۔3