اسمبلی سے غیر حاضر کے سی آر کیلئے قائد اپوزیشن کے عہدہ کی کیا ضرورت؟

   

اسمبلی میں راج گوپال ریڈی کا سوال، برقی شعبہ کی دھاندلیوں پر کے سی آر خاندان کا جیل جانا طے
حیدرآباد 29 جولائی (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی نے سوال کیاکہ کے سی آر جب اسمبلی آنے سے گریز کررہے ہیں تو پھر اُنھیں قائد اپوزیشن کا عہدہ کیوں دیا جائے؟ قانون ساز اسمبلی میں محکمہ برقی اور دیگر محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث کا آغاز کرتے ہوئے راج گوپال ریڈی نے کے سی آر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُنھوں نے کہاکہ برقی شعبہ کی تباہی اور بحران کے لئے کے سی آر ذمہ دار ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں میں اُن کے غلط فیصلوں کے نتیجہ میں برقی شعبہ کو بھاری نقصانات ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ برقی معاملات میں حقائق منظر عام پر آنے کے خوف سے قائد اپوزیشن کے سی آر ایوان سے غیر حاضر ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 10 برسوں میں ریاستی وزراء اور عوامی نمائندوں کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی۔ کے سی آر کے پاس اِن سے ملاقات کا وقت بھی نہیں تھا۔ راج گوپال ریڈی نے کہاکہ اسمبلی میں تمام وزراء برائے نام تھے اور ہر ایک محکمہ سے متعلق جواب کے سی آر دیا کرتے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ اسمبلی سے مسلسل غیر حاضر قائد اپوزیشن کے لئے عہدہ کی کیا ضرورت ہے۔ اُنھوں نے بی آر ایس ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ نئے لیڈر کا انتخاب کریں۔ وینکٹ ریڈی نے کہاکہ برقی معاملات کی جانچ کرنے والے تحقیقاتی کمیشن میں حقائق منظر عام پر آئیں گے۔ قصوروار ثابت ہونے کے خوف سے کے سی آر کمیشن کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے بی آر ایس پر الزام عائد کیاکہ ہر مسئلہ کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔ راج گوپال ریڈی نے بھدرادری اور یادادری پراجکٹس میں کئی ہزار کروڑ کی دھاندلیوں کا الزام عائد کیا اور کہاکہ کے سی آر تلنگانہ میں خود کو راجہ تصور کرتے رہے۔ وہ حکومت کو موروثی سمجھتے تھے کہ میرے بعد میرا بیٹا چیف منسٹر بنے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ قائد اپوزیشن کی حیثیت سے کے سی آر کو اسمبلی پہونچ کر برقی شعبہ میں دھاندلیوں کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ آئی اے ایس عہدیداروں کو بھی کے سی آر کے پیر چھوتے ہوئے دیکھا گیا۔ راج گوپال ریڈی نے ریمارک کیاکہ بس کچھ دن کی بات ہے کے سی آر کے افراد خاندان یکے بعد دیگرے جیل جائیں گے۔ کے سی آر کی بیٹی پہلے ہی جیل میں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عوام نے لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس کو مسترد کردیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ برقی شعبہ کو بحران سے باہر نکالنے کیلئے کانگریس حکومت اقدامات کررہی ہے۔ حکومت کا مقصد کسانوں کو 24 گھنٹے مفت معیاری برقی کی سربراہی کو یقینی بنانا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس قائدین کے سی آر کی اسمبلی اجلاس میں عدم شرکت کا یہ کہتے ہوئے دفاع کررہے ہیں کہ کے سی آر کے بجائے وہ کانگریس کیلئے کافی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اِسی طرح کے غرور و تکبر نے لوک سبھا چناؤ میں بی آر ایس کو زیرو کردیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تحقیقاتی کمیشن کے ذریعہ برقی خریدی معاہدہ اور پراجکٹس کی تعمیر میں بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ مفت برقی سربراہی کے بارے میں بی آر ایس جھوٹا دعویٰ کررہی ہے حالانکہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں کسانوں کو مفت برقی سربراہی کا آغاز ہوا تھا۔ بی آر ایس نے 10 سالہ دور حکومت میں ہر شعبہ کو تباہ کردیا ہے اور صرف مفادات کی تکمیل کے لئے پراجکٹس کی تکمیل کی گئی۔ اسمبلی اجلاس میں ایک دن شرکت کے بعد کے سی آر نے اعلان کیا تھا کہ وہ حکومت کو ہلاکر رکھ دیں گے لیکن دوسرے دن سے وہ خود غائب ہوگئے۔ 1