سفارتی حل کیلئے فریقین کی رضامندی دنیا کیلئے راحت کا سبب‘کشیدگی میں کمی کا امکان
واشنگٹن ۔14؍اپریل ( ایجنسیز )امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ایک نئی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعرات سے شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اے پی یعنی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اس ممکنہ ملاقات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور دونوں فریق ایک بار پھر بات چیت کی میز پر آنے کیلئے آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔مذاکرات ایک ایسے وقت میں متوقع ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مختلف محاذوں پر فوجی و سفارتی تناؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ گفتگو کو خطے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ ابھی تک اس مجوزہ ملاقات کے مقام اور ایجنڈے کے حوالے سے مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم جمعرات کو اس کا انعقاد ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق اس مذاکراتی عمل میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے شرکت کر سکتے ہیں جو اہم امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ ان امور میں جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، پابندیوں کا معاملہ اور دیگر دیرینہ اختلافات شامل ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ بات چیت کے ذریعے ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے جو دونوں ممالک کے درمیان مسلسل تناؤ کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کا آغاز بذاتِ خود ایک مثبت اشارہ ہے کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں سختی دیکھی جا رہی تھی۔ اس نئی پیش رفت کو سفارت کاری کی کامیابی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جہاں براہِ راست تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی اس خبر کے بعد خاصی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف ممالک اس عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہونے کی توقع ہے۔فی الحال تمام نگاہیں جمعرات پر مرکوز ہیں جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا یہ مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کی بنیاد بنتے ہیں یا نہیں۔ تاہم ابتدائی طور پر یہ پیش رفت امید کی ایک نئی کرن کے طور پر سامنے آئی ہے جو خطے میں امن کے امکانات کو تقویت دے سکتی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں 21گھنٹے طویل مذاکرات ناکام ہوگئے تھے۔مذاکرات کے نئے دور کی اطلاع سے دنیا کے کئی ممالک نے راحت کی سانس لی ہے۔توقع ہے کہ مذاکرات پھر اسلام آباد ‘ جینوا یا کسی اور مقام پر ہوسکتے ہیں ۔