اسپیس ایکس کا ’اسٹار شپ ‘آج پھر اڑان بھرے گا

   

ٹیکساس اسٹاربیس فیسلیٹی سے لانچنگ ‘ انسانوں کو مریخ تک پہنچانے کی تیاری تیز

واشنگٹن۔20؍مئی ( ایجنسیز)دنیا کا سب سے طاقتور راکٹ مانے جانے والا ’اسٹار شپ‘ ایک بار پھر ٹسٹ فلائٹ کیلئے تیار ہے۔ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس 21 مئی کو اپنے نیکسٹ۔جنریشن اسٹار شپ راکٹ کی 12ویں انٹیگریٹڈ ٹسٹ فلائٹ کرنے جا رہی ہے۔ یہ مشن ٹیکساس میں موجود اسٹاربیس فیسلیٹی سے لانچ ہوگا اور اسے اسپیس ایکس کے سب سے اہم ٹسٹس میں سے ایک مانا جا رہا ہے۔ اس اڑان پر صرف اسپیس ایکس ہی نہیں بلکہ ناسا اور مکمل اسپیس انڈسٹری کی نظر ٹکی ہوئی ہے کیونکہ اس راکٹ کو مستقبل میں انسانوں کو چاند اور مریخ تک لے جانے کی بڑی امید مانا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ کچھ مہینوں میں اسپیس ایکس نے اسٹار شپ میں کئی بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نیا ورژن پہلے سے زیادہ بھروسے مند، طاقتور اور دوبارہ استعمال کیلئے بہتر بنایا گیا ہے۔ اسٹار شپ تقریباً 120 میٹر اونچا راکٹ سسٹم ہے، جس میں سوپر ہیوی بوسٹر اور اسٹار شپ اپر اسٹیج شامل ہیں۔ اس میں استعمال ہونے والے ریپٹر انجن لیکویڈ میتھین اور لیکویڈ آکسیجن پر چلتے ہیں۔ یہی انجن مستقبل کے چاند اور مریخ کے مشنز کی سب سے بڑی طاقت مانے جا رہے ہیں۔یہ مشن کسی سیٹلائٹ لانچ کیلئے نہیں بلکہ سسٹم ٹسٹنگ کیلئے کیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ توجہ سوپر ہیوی بوسٹر کی واپسی پر رہے گی۔ اسپیس ایکس مستقبل میں لانچ ٹاور کے مکینیکل آرمز کی مدد سے بوسٹر کو ہوا میں پکڑنے کی تکنیک کو تیار کر رہا ہے۔ یہ تکنیک کامیاب ہوئی تو راکٹ لانچ کی لاگت کافی کم ہو سکتی ہے۔ اس میں لگے ہزاروں سیرامک ٹائلس والے ہیٹ شیلڈ کو بے حد گرم درجہ حرارت میں ٹیسٹ کیا جائے گا۔اسٹار شپ صرف اسپیس ایکس کا پراجکٹ نہیں بلکہ ناسا کے آرٹیمس پروگرام کا بھی اہم حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹار شپ کی ہر ٹیسٹ فلائٹ ناسا کے لیے بھی انتہائی اہم بن گئی ہے۔ اگر اسپیس ایکس اس سسٹم کو مکمل طور پر کامیاب بنا لیتا ہے تو مستقبل میں مون بیس اور مارس مشنز کی راہ کافی آسان ہو سکتی ہے۔اسپیس ایکس روایتی اسپیس کمپنیوں کی طرح کئی سال تک صرف لیب ٹیسٹنگ نہیں کرتا۔ کمپنی ٹیسٹ، فیل، فکس، ریپیٹ ماڈل پر کام کرتی ہے۔ یعنی بار بار ٹیسٹ کر کے ہر غلطی سے سیکھنا اور سسٹم کو بہتر بنانا۔ اسی وجہ سے اسٹار شپ پروگرام بے حد تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ ہر لانچ سے ملنے والا ڈیٹا انجن پرفارمنس، فلائٹ اسٹیبلٹی، اسٹرکچر اور لینڈنگ سسٹم کو مضبوط بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ 21 مئی کا یہ مشن کامیاب رہا تو اسپیس ایکس پوری طرح سے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ سسٹم کے اور قریب پہنچ جائے گا۔ اس سے مستقبل میں اسپیس مشنز کی لاگت کافی کم ہو سکتی ہے۔ اسٹار شپ کو مستقبل میں بڑے سیٹلائٹ لانچ، چاند کے مشنز، مریخ کے سفر اور یہاں تک کہ زمین پر ہائی اسپیڈ ٹریول کے لیے بھی استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹیسٹ فلائٹ کو صرف ایک راکٹ لانچ نہیں بلکہ مستقبل کی اسپیس ٹیکنالوجی کے لیے ایک بہت بڑا سنگ میل مانا جا رہا ہے۔