معذرت خواہی کرنے جگدیش ریڈی کو ہدایت، پہلی مرتبہ اسمبلی میں بی آر ایس کو مشکلات کا سامنا
حیدرآباد 13 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقتدار سے محرومی کے بعد پہلی مرتبہ بی آر ایس کو اسمبلی میں اُلجھن کا سامنا کرنا پڑا اور اسپیکر کے خلاف جگدیش ریڈی کے ریمارکس نے برسر اقتدار پارٹی کو موقع فراہم کردیا کہ بی آر ایس کو نشانہ بنائیں۔ تحریک تشکر پر مباحث کے دوران بی آر ایس رکن اور سابق وزیر جگدیش ریڈی نے اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے نازیبا لفظ ادا کردیا جس پر ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ گزشتہ 15 ماہ کے دوران یوں تو اسمبلی کے کئی اجلاس منعقد ہوئے لیکن بی آر ایس نے حکومت کو کوئی ایسا موقع فراہم نہیں کیا جس کے تحت دفاعی موقف اختیار کرنا پڑے۔ بی آر ایس نے ہمیشہ جارحانہ موقف اختیار کیا اور حکومت نے بھی بی آر ایس ارکان کے احتجاج کے باوجود کبھی بھی معطلی کا فیصلہ نہیں کیا۔ بجٹ سیشن کے دوسرے دن جگدیش ریڈی کے سبب آج بی آر ایس پارٹی دفاعی موقف میں آگئی اور لیکن اِس صورتحال کا برسر اقتدار پارٹی نے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور جگدیش ریڈی کو معطل کردیا گیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ہنگامہ آرائی کے بعد جب ایوان کی کارروائی ملتوی کی گئی، اس دوران بی آر ایس سربراہ کے سی آر نے پارٹی ارکان سے اسمبلی کی صورتحال پر بات چیت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر ایوان کی کارروائی کا لائیو مشاہدہ کررہے تھے۔ کے سی آر نے بھی اسپیکر کے خلاف جگدیش ریڈی کے ریمارک کو ناپسند کیا اور اُنھیں ہدایت دی کہ فوری طور پر اسپیکر سے غیر مشروط معذرت خواہی کرلیں تاکہ پارٹی پر دلتوں کی توہین کا الزام عائد نہ ہوسکے۔ 4 گھنٹے کے وقفہ کے بعد جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تب بی آر ایس ارکان نے اسپیکر سے اپیل کی کہ جگدیش ریڈی کو معذرت خواہی کا موقع دیا جائے لیکن اُس وقت تک کافی دیر ہوچکی تھی۔ برسر اقتدار پارٹی نے فوری طور پر معطلی کی تحریک پیش کی جسے ندائی ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اسپیکر کے خلاف ریمارک کے سبب بی جے پی نے بھی معطلی کی مخالفت نہیں کی اور خاموشی اختیار کرلی۔ اس طرح گزشتہ کئی اجلاسوں کے مقابلہ جاریہ بجٹ سیشن میں بی آر ایس کو دفاعی موقف اختیار کرنا پڑا اور جگدیش ریڈی کے ریمارک سے بی آر ایس ارکان میں ندامت کا احساس دیکھا گیا۔ اِس صورتحال کا برسر اقتدار پارٹی نے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور جگدیش ریڈی کو معطل کیا گیا۔ 1