اسکالرشپ کیلئے آدھار اور دسویں کے میمو میں نام کی یکسانیت لازمی

   

حکومت کی نئی پالیسی، فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ براہ راست طلبہ کے بینک کھاتوں میں جمع ہوں گی

حیدرآباد 8 مئی (سیاست نیوز) ریاستی حکومت نے فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ کی فراہمی کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے نئی پالیسی نافذ کردی ہے۔ اب سے ان مراعات کے حصول کے لئے آدھار کارڈ اور دسویں جماعت کے میمو میں طالب علم کے نام اور (Surname) کا مکمل طور پر یکساں ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے احکامات کے مطابق اگر آدھار اور دسویں کے میمو میں نام یکسانیت نہیں ہوں گے تو ٹیوشن فیس کی درخواست کا پورٹل آگے نہیں بڑھے گا۔ اسکالرشپ پورٹل پر لاگ ان کرنے کے لئے دسویں کلاس کا ہال ٹکٹ نمبر، تاریخ پیدائش اور پاس کرنے کا سال درج کرنا ہوگا۔ ان تفصیلات کے درست ہونے پر ہی درخواست فارم کھلے گا۔ طالب علم کو اپنی صنف، ذات، ذیلی ذات، آدھار نمبر، موبائیل نمبر اور کالج کی تفصیلات فراہم کرنی ہوگی۔ نام کی مماثلت ثابت ہونے پر فوری طور پر ’’اپلی کیشن آئی ڈی‘‘ جاری کردی جائے گی۔ آن لائن رجسٹریشن کے پہلے مرحلہ کے بعد طلبہ کو می سیوا مراکز پر جاکر آدھار بائیو میٹرک تصدیق مکمل کرنی ہوگی۔ پرانے طلبہ جو اپنی اسکالرشپ کی تجدید کروارہے ہیں۔ ان کے لئے بھی آدھار اور میمو میں نام کا یکسانیت ہونا لازمی ہے۔ قومی اسکالرشپ پالیسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اب ریاست میں ایس سی طلبہ کی طرح ایس ٹی، بی سی، اقلیتی اور معذور طلبہ کی ٹیوشن فیس اور اسکالرشپ کی رقم بھی براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں جمع کی جائے گی۔ اس کے لئے بینک اکاؤنٹ کا آدھار سے لنک ہونا اور موبائیل نمبر کی رجسٹریشن لازمی ہے۔V/2