اسکولوں کی لوٹ ، حکومت خاموش

   

حیدرآباد :۔ حیدرآباد میں اسکولس طلبہ کی پوری فیس کا مطالبہ کررہے ہیں جب کہ رسید میں صرف ٹیوشن فیس کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ کئی اولیائے طلباء نے یہ شکایت کی ہے اور کہا کہ حکومت تلنگانہ نے 21 اپریل 2020 کو جی او 46 جاری کرتے ہوئے اسکولوں کو ہدایت دی تھی کہ مزید احکام تک صرف ٹیوشن فیس ہی وصول کی جائے ۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسکولس نے حکومت کے احکام کو فراموش کردیا ہے تب ہی تو وہ پوری فیس کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ جی او ایم ایس 46 کے مطابق اسٹیٹ بورڈ ، سی بی ایس ای ، آئی سی ایس ای اور دیگر انٹرنیشنل بورڈس سے ملحقہ ریاست کے تمام خانگی غیر امدادی مسلمہ اسکولس کو تعلیمی سال 2020-21 کے دوران فیس میں کوئی اضافہ نہ کرنے کی ہدایت دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ مزید احکام تک ماہانہ اساس پر صرف ٹیوشن فیس چارج کریں ۔ حیدرآباد کے ایک پیرنٹ مسٹر سندیپ کمار دتہ نے کہا کہ سینٹ انس اسکول نے دیگر تمام اسکولس کی طرح آن لائن کلاسیس کا آغاز کیا ہے۔ ٹیچرس نے کہا کہ اسٹوڈنٹ کی جانب سے ایک پیرنٹ کے ساتھ اسائینڈ پراجکٹس اور نوٹس داخل کئے جانے چاہئے ۔ میں میری بیٹی کا پراجکٹ ورک داخل کرنے کے لیے سینٹ انس اسکول گیا ، پراجکٹ داخل کرتے وقت ٹیچر نے مجھے یاد دلایا کہ فیس باقی ہے اسے ادا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ میں فیس کاونٹر پر گیا جہاں یہ کہا گیا کہ وہ ڈیبٹ کارڈس پر ایک فیصد زائد چارج کریں گے ۔ فیس کی رسید میں سوائے ٹیوشن فیس کے تذکرہ کے دیگر کوئی تفصیلات نہیں تھیں ‘ ۔۔