دھرم سنسد کی نفرت انگیز تقاریر، کورونا جہاد جیسے معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت، حکومت تلنگانہ کو بھی نوٹس
حیدرآباد 13 جنوری (سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں جمعہ کو اشتعال انگیز تقاریر، بیانات اور مخصوص طبقہ کو نشانہ بناتے ہوئے چلائی گئی مبینہ مہم سے متعلق معاملے کی سماعت ہوئی۔ جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگرتنا پر مشتمل بنچ نے نظرثانی کی درخواستوں کی بیک وقت سماعت کی۔ ہردوار دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقاریر اور ٹوئٹر پر تبلیغی جماعت کے خلاف کورونا جہاد کا الزام لگاتے ہوئے چلائی گئی مہم کے خلاف داخل کی گئی درخواست کی تفصیلی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سماعت کے بعد اِن درخواستوں میں فریق بنائے گئے تمام ریاستوں کو نوٹس جاری کئے اور دھرم سنسد کے معاملہ میں اتراکھنڈ حکومت کو اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا۔ اِس سلسلہ میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت کے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل جتندر کمار سیتھی نے عدالت کو یہ واقف کروایا کہ اِس سلسلہ میں پولیس نے ازخود کارروائی کے تحت 23 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس کے ایم جوزف نے اتراکھنڈ کے نائب ایڈوکیٹ جنرل سے یہ کہاکہ محض ایف آئی آر درج کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اِس سلسلہ میں کارروائی بھی کی جانی چاہئے۔ جسٹس جوزف نے کہاکہ بڑے پیمانے پر اِس معاملہ کی تحقیقات کی جانی چاہئے بلکہ اس معاملہ کی تحقیقات محض ضابطہ کی کارروائی کے تحت نہیں کی جانی چاہئے جسٹس جوزف نے یہ بھی کہاکہ اشتعال انگیز تقاریر ایک خطرہ ہے۔ سماعت کے دوران اترپردیش کے ایڈوکیٹ جنرل گریما پرشاد نے کہاکہ اشتعال انگیز تقاریر اور بیانات سے متعلق 581 مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں 160 مقدمات ازخود کارروائی کے تحت درج ہوئے۔ اشتعال انگیز تقاریر کے سلسلہ میں جاری سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے میڈیا کے رول کی بھی سرزنش کی اور تشویش کا اظہار کیا۔ جسٹس کے ایم جوزف نے کہاکہ وہ محض ٹی آر پی ریٹنگ کیلئے آپس میں مسابقت کررہے ہیں اور بعض مرتبہ معاملات کو سنسنی خیز بھی بنارہے ہیں۔ میڈیا کے بارے میں عدالت نے کہاکہ وہ محض اپنے فائدے کے لئے سماج کو تقسیم کررہے ہیں۔ جج نے یہ بھی کہاکہ بصری ذرائع ابلاغ اخبار سے زیادہ اثر ڈالتیہیں۔ جج نے اپنی یہ رائے ظاہر کی کہ توہین آمیز ٹی وی اینکرس کو برخاست کردینا چاہئے اور پروگرام کوڈ کی خلاف ورزی کرنے والے چیانلس پر بھاری جرمانہ عائد کرنا چاہئے۔ کورونا وائرس وباء کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر اسلاموفوبیا کے تحت ’’کورونا جہاد‘‘ عنوان سے چلائی گئی مہم کے خلاف شہر کے وکیل خواجہ اعجازالدین کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے تلنگانہ حکومت کو تازہ نوٹس جاری کرنے کے احکام دیئے۔ جسٹس کے ایم جوزف نے ٹوئٹر کمپنی کی جانب سے اِس معاملہ میں اپنا جواب داخل نہ کرنے پر وکیل کی جانب سے داخل کردہ نظرثانی کی درخواست میں عائد الزامات کو درست قرار دینے کا انتباہ دیا۔ آئندہ سماعت 28 فروری کو مقرر کی گئی ہے۔