ممبئی : ورلڈ ٹسٹ چمپئن نیوزی لینڈ کی ٹیم ہندوستان کی اننگز میں اپنے لیفٹ آرم اسپنر اعجاز پٹیل کے تمام 10 وکٹیں لینے کے کارنامہ سے تحریک نہیں لے سکی اوراس کے بیاٹروں نے میزبان بولروں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے جیسا کہ کیوی ٹیم دوسرے اور آخری ٹسٹ کے آج ہفتہ کو دوسرے دن محض 62 رنز ڈھیر ہوگئی۔ ویراٹ کوہلی زیرقیادت ٹیم انڈیا کو پہلی اننگز میں 325 پر آل آؤٹ کرنے کے بعد نیوزی لینڈ ایک سیشن بھی بیٹنگ نہیں کرپایا۔ ہندوستانیوں نے مہمانوں کو 28.1 اوور میں 62 رنز پر پویلین واپس بھیج دیا۔ اس طرح ہندوستان کو 263 رنز کی زبردست سبقت حاصل ہوئی۔ تاہم، انڈیا نے مہمان ٹیم سے فالو آن نہیں کرایا۔ انڈیا نے دوسرے روز کھیل ختم ہونے تک دوسری اننگز میں 21 اوور میں 69/0 اسکور کرلئے اور ان کی مجموعی برتری 332 رنز ہوگئی ہے ۔ اسٹمپس کے وقت پہلی اننگز میں زبردست سنچری اسکور کرنے والے اوپنر مینک اگروال 38 اور عبوری اوپنر چیتیشور پجارا 29 کے انفردی اسکورس پر ناٹ آؤٹ رہے۔ ہندوستان نے دوسری اننگز میں اگروال کے ساتھی اوپنر کے طور پر شبھمن گل کی جگہ پجارا کو میدان پر بھیجا۔ پہلی اننگز میں صفر پر آؤٹ ہونے والے پجارا نے اس مرتبہ بہتر بلے بازی کی اور 51 گیندوں پر 29 رنز میں تین چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ پہلی اننگز میں 150رنز بنانے والے اگروال نے بھی شاندار بلے بازی کی اور 75گیندوں پر 38رنز میں چھ چوکے لگائے۔ قبل ازیں صبح میں221/4 کے اسکور پر ہندوستان نے اپنی اننگز کا احیاء کیا۔ بڑے اسکورکے ارادے سے اگروال 120 اور وردھیمان ساہا 25 کے انفرادی اسکور کے ساتھ کریز پر آئے لیکن پہلے دن کی طرح نیوزی لینڈ کے لیفٹ آرم اسپنر اعجاز پٹیل نے ایک بار پھر میزبانوں کو جلد ہی جھٹکا دیا۔ انہوں نے ساہا اور روی چندرن اشوین کی شکل میں لگاتار دو وکٹیں حاصل کئے۔ ساہا جہاں مزید دو رنز جوڑ کر 27 پر، وہیں اشوین اپنا کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہوگئے ۔ اس کے بعد اکشر پٹیل نے اگروال کے ساتھ شراکت داری قائم کی۔ اعجاز نے دونوں بلے بازوں کے خلاف جارحانہ بولنگ کی لیکن دونوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور کریز پر ڈٹے رہے اور پھر رنوں کی رفتارکو آگے بڑھایا۔ دونوں نے ساتویں وکٹ کیلئے 67 رنز جوڑے مگر اعجاز نے پھر کمال دکھایا اور 291کے انڈیا اسکور پر اگروال کا وکٹ لے کر اس پارٹنرشپ کو توڑ دیا۔ اگروال آج اپنے انفرادی اسکور میں 30 رنز جوڑنے میں کامیاب رہے اور 150رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے ۔ ان کے بعد اکشر نے اننگز کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھالی حالانکہ وہ زیادہ رنز نہیں جوڑ سکے اور 52 رنز بنا کر اعجاز کی ہی گیند پرآؤٹ ہوگئے ۔ یہ ہندوستان کا 316پر آٹھواں وکٹ رہا۔ اس کے بعد اعجاز نے لوور آرڈر کے جینت یادو اور محمد سراج کو زیادہ دیر وکٹ پر ٹکنے نہیں دیا اور ان دونوں کے وکٹ بھی لے کر 325 پر ہندوستانی ٹیم کو آل آؤٹ کردیا۔ ہندوستان کی جانب سے اگروال اور اکشر کے علاوہ شبھمن گل نے نمایاں 44رنز بنائے ۔ ہندوستانی اننگز کے خاتمہ کے ساتھ ہی اعجاز پٹیل تمام 10وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دینے والے دنیا کے تیسرے اور نیوزی لینڈ کے پہلے بولر بن گئے ۔ وانکھیڈے اسٹیڈیم میں اعجاز پٹیل کے اعداد و شمار 47.5-12-119-10 درج ہوئے جو مدتوں یاد رکھے جائیں گے۔ لیفٹ آرم اسپنر کا کارنامہ ہندوستان کی اننگز کے 110 ویں اوور کی پانچویں گیند پر درج ہوا جب گیارہویں نمبر کے بیاٹر محمد سراج نے 4 کے انفرادی اسکور پر اعجاز کو بڑا شاٹ مارنا چاہا مگر گیند تیس گز کے گھیرے کے قریب راچین رویندر نے کیچ کرلی۔ اس کے ساتھ ہی کیوی کیمپ میں غیرمعمولی خوشی منائی گئی۔ اعجاز پٹیل نے فوری میدان پر ہی سجدۂ شکر ادا کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اعجاز کی پیدائش ممبئی میں ہی ہوئی ۔ وہ غیر ملکی سرزمین پر ایک اننگز میں 10 وکٹیں لینے والے پہلے گیندباز بنے ہیں۔ یہ کارنامہ سب سے پہلی بار 1956 میں انگلینڈ کے جم لیکر نے اولڈٹرافورڈ، مانچسٹر میں آسٹریلیا کے خلاف انجام دیا تھا جبکہ انیل کمبلے نے 1999 میں اسے دہرایا جب انھوں نے دہلی میں پاکستان کے خلاف اننگز میں پوری ٹیم کو آؤٹ کیا۔ اب 2021میں اعجاز پٹیل نے یہ کارنامہ ویراٹ کوہلی زیرقیادت ٹیم انڈیا کے خلاف درج کرایا ہے ۔ اعجاز پٹیل کی کہانی دلچسپ ہے۔ ممبئی کا لڑکا خواب لئے نیوزی لینڈ سے واپس ممبئی آتا ہے اور ٹسٹ کرکٹ میں ایسی اسکرپٹ لکھتا ہے ، جسے آنے والے برسہابرس تک یاد رکھا جائے گا۔ اعجاز پٹیل … اس نام کو اب جم لیکر (رائٹ آرم آف اسپنر) اور انل کمبلے (رائٹ آرم لیگ اسپنر) جیسے عظیم گیندبازوں کی اس خاص مگر مختصر فہرست میں شامل کیا جائے گا، جس میں کسی گیندباز نے ٹسٹ میچ کی ایک اننگز میں 10وکٹ حاصل کئے ہوں۔ تاہم، اعجاز کے ساتھی بیاٹروں نے اُن کے کارنامہ کی خوشی کو ماند کردیا۔ جب نیوزی لینڈ کی جوابی اننگز شروع ہوئی تو ایشانت شرما کی جگہ قطعی گیارہ میں شامل فاسٹ بولر محمد سراج نے نیوزی لینڈ کو ابتدائی جھٹکا دیا۔ پہلے میچ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اوراس میچ میں کپتانی کررہے ٹام لیتھم اور وِل ینگ کو سراج نے سستے میں نمٹادیا۔ لاتھم 10اور ینگ 4 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ سراج نے پھر اپنا شکار راس ٹیلر کو بنایا، جو فارم کی تلاش میں ہیں۔ سراج نے ٹیلر کو ایک رن پر بولڈ کردیا۔ 17/3 کے بعد نیوزی لینڈ پر دباؤ بڑھ گیا اور کیوی ٹیم سنبھل نہ سکی۔ اس کے وکٹ گرتے رہے ۔ 27کے اسکور پر اکشرپٹیل
نے ڈیرل مچل کوآؤٹ کیا تو پورا ٹاپ آرڈر پویلین واپس گیا۔ پھر تجربہ کار روی چندرن اشوین نے مڈل اور لوور آرڈر بیاٹروں کو اپنی گھومتی گیندوں پر نچایا۔ وہ تیزی سے کامیاب ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے نیوزی لینڈ 62رنز پر آل آؤٹ ہوگیا۔ اشوین کو 8 رنز پر 4 وکٹ، سراج کو 19 رنز پر 3 جبکہ اکشر پٹیل کو 14 رنز پر 2 وکٹ حاصل ہوئے۔ جینت یادو کو 1 وکٹ ملی۔