نشہ مکت بھارت مہم میں حصہ لینے طلبہ سے اپیل، حیدرآباد یونیورسٹی کانوکیشن سے گورنر کا خطاب
حیدرآباد۔یکم اکتوبر (سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ شیو پرتاپ شکلا نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔ گورنر آج حیدرآباد میں یونیورسٹی آف حیدرآباد کے 26 ویں کانوکیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ جسٹس ایل نرسمہا ریڈی نے کانوکیشن کی صدارت کی جبکہ ڈی آر ڈی او کے سابق صدرنشین ڈاکٹر سمیر وی کامت مہمان خصوصی تھے۔ انچارج وائس چانسلر پروفیسر جے انورادھا اور رجسٹرار ڈاکٹر دیویش نگم نے استقبال کیا۔ گورنر نے اس موقع پر طلبہ میں ڈگری اور میڈلس تقسیم کئے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں گورنر نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ ڈگری کی تکمیل کو تعلیم کے حصول کی تکمیل تصور نہ کریں اور سیکھنے کا سلسلہ تاحیات جاری رہتا ہے۔ انہوں نے آرٹیفشل انٹلیجنس اور نئی ٹکنالوجیز سے استفادہ کرتے ہوئے انسانی اقدار کو فروغ دینے کا مشورہ دیا۔ گورنر نے طلبہ سے کہا کہ وہ ڈگری کے حصول کے بعد صرف روزگار کے حصول پر توجہ مرکوز نہ کریں بلکہ خود کو انٹر پرینر اور ریسرچرس کی حیثیت سے دوسروں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ ہندوستان کو 2047 تک ترقی یافتہ ملک بنانے میں نوجوانوں کا اہم رول رہے گا۔ شیوپرتاپ شکلا نے کہا کہ صرف شخصی کارناموں کو کامیابی کہا نہیں جاسکتا بلکہ اپنی صلاحیتوں کو سماج کی بھلائی کیلئے استعمال کیا جائے۔ سماج کے کمزور اور محروم طبقات کو اونچا اٹھانے کیلئے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی سفر کے دوران طلبہ کو اپنے والدین اور ٹیچرس کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ گورنر نے کہا کہ ترقی کی منزلوں کو طئے کرنے کے بعد طلبہ اپنی شروعات اور بنیاد کو فراموش نہ کریں۔ انسانی خدمت کے جذبہ کو ہمیشہ برقرار رکھا جائے اور انسانیت کی خدمت ہی ملک کی ترقی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ گورنر نے نوجوانوں کو ڈرگس کی لعنت سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ نشہ مکت بھارت مہم میں شامل ہوتے ہوئے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ نشہ کی برائیوں کے بارے میں نئی نسل کو واقف کرائیں۔1/k