ممبئی : مہاراشٹر حکومت کا اُردو ااکیڈیمی اور اقلیتی اداروں کے ساتھ سوتیلا سلوک برقراہے ۔اس سے قبل بھی مہاراشٹر عکاس اگھاڑی( ایم وی اے ) کی سرکار میں بھی یہی حال رہا بلکہ 2014 سے اقلیتی ادارے عدم توجہ کا شکار ہیں،ایم وی اے حکومت کے اُس وقت کے وزیر اقلیتی امور نواب ملک نے بھی دلچسپی نہیں دکھائی اور اب تک زبوں حالی برقرار ہے ۔ مہاراشٹر میں اقلیتی اداروں کاجو حال ہے ، وہ کسی سے چھپا نہیں ہے ۔ایکناتھ شنڈے کے دور میں صرف ریاستی حج کمیٹی کے چیئرمین کا تقرر ہوا ہے ۔ورنہ مہاراشٹر اقلیتی کمیشن،مولاناآزاد مالیاتی کمیشن اور مہاراشٹر ساہتیہ اردو ااکیڈیمی کا بُرا حال ہی۔اردو ااکیڈیمی کا تو کافی بُرا حال ہے ۔حالانکہ وزیر برائے اقلیتی امور عبد الستار جلسوں میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں،لیکن فائلوں پر دستخط نہیں کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال آٹھ مہینے سے ااکیڈیمی میں انعام کے لیے آئی اور چھپائی کے لیے معاوضہ مانگنے کتابوں پرتبصرہ کیلئے مقررکیے گئے متعددجج معاوضہ سے محروم ہیں۔اسی طرح کئی امور کے لیے رقم نہیں دی گئی ہے ۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اُردو ساہتیہ ااکیڈیمی گزشتہ تیرہ سال سے صرف ایک افسر کی سربراہی میں سرگرم ہے ،وزیر موصوف نے عملے کی تقرری کی فائل پر دستخط نہیں کیے ہیں اور ان کی میز پر فائل دھول چاٹ رہی ہے ۔ اس کا انکشاف ایک آر ٹی آئی رپورٹ میں کیاگیا ہے کہ اُردوا اکیڈیمی کیلئے منظور شدہ ۷؍ رکنی عملے میں سے صرف ایک سرکاری افسر فائز ہے ۔ اور تقریباً۱۳ ؍ سال سے 6 عہدے خالی ہیں ۔ حکومت کی جانب سے ان اسامیوں کو پُر کرنے کی کوئی پہل نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے اُردو ااکیڈیمی کا کام کاج بری طرح متاثر ہے ۔ اسی طرح اُردوااکیڈیمی کے بجٹ کا بھی سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ااکیڈیمی کی ادبی ،تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیاں برائے نام جاری ہیں ۔ گزشتہ سال تقریباً ایک کروڑ 31؍ لاکھ روپے کا بجٹ مختص کیاگیا اور صرف 26 لاکھ 20 ہزار روپے ملے تھے ۔ امسال اب تک صرف 21؍لاکھ 12؍ ہزار روپے بطور بجٹ منظور کیاگیا ہے ۔ غیر سرکاری تنظیم اُردو کارواں کے صدر فرید احمد خان جوکہ ااکیڈیمی کے سہ ماہی رسالہ کے نائب مدیر بھی ہیں۔انہوں نے ہی آرٹی آئی سے معلومات حاصل کی ہے ۔اُردو ااکیڈیمی کے سپرنٹنڈنٹ ہاشمی سید شعیب نے 13؍ جون ۲۰۲۴ء کو مکمل تحریری جواب دیا ہے ، اردو ااکیڈیمی کے لیے منظور شدہ عہدوں کی تعداد 7؍ ہے ،ان میں سے صرف سپرنٹنڈنٹ اپنے عہدہ پر فائز ہے ، باقی عہدے خالی ہیں ۔ امسال اب تک صرف21 ؍لاکھ 12؍ ہزارروپے بطور بجٹ منظور کیاگیا ہے ۔ اس سب کی وجہ سے اُردو ااکیڈیمی کی سرگرمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ، لیکن اس کاکوئی پُرسان حال نہیں ہے ۔اڈی طرح مولاناآزاد مالیاتی کارپوریشن کا کام بھی ٹھپ پڑا ہے ۔فنڈ بھی واپس کردیا گیا ہے جبکہ اقلیتی کمیشن کو تو درکنار کردیا گیاہے ۔