اقلیتی اقامتی اسکول چارمینار میں سمیت غذا ، 61 طالبات متاثر

ناشتہ کرنے کے بعد طالبات نے متلی ، قئے دست اور دردِ شکم کی شکایت کی
حیدرآباد۔14مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول برائے طالبات چارمینار شاخ میں سمیت غذاء کے استعمال سے 61طالبات متاثر ہوگئیں جن میں 45 کے قریب طالبات کا اسری دواخانہ میں آؤٹ پیشینٹ کی حیثیت سے علاج کیا گیا جبکہ مابقی طالبات اب بھی شریک دواخانہ ہیںلیکن دواخانہ کے ذرائع اور اقلیتی اقامتی اسکولوں کے ذمہ داروں کے مطابق تمام طالبات کی حالت خطرہ سے باہر ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ 14 مارچ کی صبح طالبات کو ناشتہ فراہم کئے جانے کے فوری بعد طالبات نے متلی اور در دشکم کی شکایت شروع کردی جس کے نتیجہ میں فوری انہیں دواخانہ منتقل کرنے کا عمل شروع کیا گیا جہاں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ طالبات سمیت غذاء کے استعمال کے سبب دست و قئے کے علاوہ درد شکم میں مبتلاء ہوئی ہیں۔ تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول میں پیش آئے اس واقعہ کی اطلاع موصول ہوتے ہی سیکریٹری تلنگانہ اقلیتی اقامتی ادارہ جات مسٹر بی ایم شفیع اللہ آئی ایف ایس نے ویجلینس کی ٹیم کو اسکول روانہ کرنے کی ہدایت جاری کی اور ویجلنس ٹیم نے اسکول کیباورچی خانہ کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے حقائق سے آگہی حاصل کی ۔ بتایاجاتا ہے کہ جمعرات کی علی الصبح ناشتہ میں چارمینار شاخ کے اقلیتی اقامتی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کو آلو بونڈہ یا میسور بھجیہ دیا گیا تھا

جس کے استعمال کے بعد طالبات نے درد شکم اور دست و قئے کی شکایت کی جنہیں فوری اسکول انتظامیہ نے آٹوز کے ذریعہ اسری دواخانہ منتقل کیا اور 61 طالبات کے معائنہ کے بعد دواخانہ کے انتظامیہ نے بیشتر طالبات کو ان کے گھر روانہ کردیا جبکہ جن طالبات کی صحت مستحکم نہیں ہے انہیں شریک دواخانہ رکھا گیا ہے۔ شاہ علی بنڈہ نئی سڑک پر واقع اس اسکول میں سمیت غذاء سے پیش آنے والے اس واقعہ کے سلسلہ میں حسینی علم پولیس کا کہناہے کہ انہیں اس سلسلہ میں ابھی تک بھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی لیکن اس کے باوجود محکمہ پولیس کی جانب سے اپنے طور پر کاروائی اور تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ مسٹر بی ایم شفیع اللہ نے کہا کہ اسکول میں پیش آنے والے اس واقعہ کی TMRIES کی جانب سے ویجلنس کے ذریعہ تحقیقات کروائی جائے گی ۔ سمیت غذاء سے متاثر ہونے والی طالبات کی حالت کے متعلق ڈاکٹرس کا کہناہے کہ عاجلانہ طور پر انہیں دواخانہ سے رجوع کئے جانے کے سبب فوری بہتر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ جن طالبات میں کمزوری محسوس کی جارہی یہ صرف انہیں ہی شریک دواخانہ رکھا گیا ہے۔ اسکول میں تعلیم حاصل کررہی طالبات کے والدین اور سرپرستوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔

TOPPOPULARRECENT